پیپلز پارٹی کے سابقہ ادوار کے بارے میں کرپشن کی کہانیاں صرف مفروضوں پر مبنی ہیں، سندھ فیسٹول سے میرا کوئی تعلق نہیں

سندھ کے وزیر سیاحت و ثقافت سید سردار شاہ کا سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران محکمہ سیاحت و ثقافت سے متعلق ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب

جمعرات نومبر 23:59

کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) سندھ کے وزیر سیاحت و ثقافت سید سردار شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے سابقہ ادوار کے بارے میں کرپشن کی جو کہانیاں بیان کی جاتی ہیں وہ صرف مفروضوں پر مبنی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں، انہوں نے کہا کہ سندھ فیسٹول سے میرا کوئی تعلق نہیں ،سندھ فیسٹول کے نام پرکیاہوا مجھے کچھ علم نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو سندھ اسمبلی کے وقفہ سوالات کت دوران محکمہ سیاحت و ثقافت سے متعلق ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی۔

جی ڈی اے کے رکن نند کمار گوکلانی نے کہا کہ موئن جودڑو میں کانفرنس کے نام پرکروڑوں روپے برباد کئے گئے، اتنی بڑی رقم سے تو کئی موٹلز اور ریزروٹس بن سکتے تھے۔ ایم کیو ایم کی اقلیتی رکن منگلاشرما نے کہا کہ وزیر موصوف بتائیں کہ گورکھ ہل سیاحتی مرکز کا کیا بنا جس پر سردار شاہ نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے، گورکھ ہل سیاحتی مرکز میری وزرات کے ماتحت ضرور ہے لیکن میرا کوئی کردارنہیں، گورکھ ہل اتھارٹی کے چیئرمین ہماری پارٹی کے ایک ایم این اے ہیں وہ ہی اس بارے میں کچھ بتاسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

وقفہ سوالات کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خرم شیر زمان نے اس بات پر اعتراض کیا کہ آئے روز فرئیر ہال میں پروگرامات منعقد ہوتے ہیں۔ وزیر ثقافت یہ بتائیں کہ وہ پروگرامات وہاں کیسے ہوتے ہیں جس پر سردار شاہ نے کہا کہ یہ سٹی گورنمنٹ کے ماتحت ہے، آپ لوگ قرارداد لائیں اور فیرئیر ہال کو سندھ حکومت کے ماتحت کردیں۔ انہوں نے کہا کہ آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ کی نہ کوئی فورس ہے نہ ہی پولیس ہے۔

وقفہ سوالات کے دوران جب فرئیر ہال کے حوالے سے مئیر کراچی کا ذکر آیا تو ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ یہاں میئر کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ سردار شاہ نے کہا کہ فریئرحال کے کمرشل استعمال نے اس کی رونق خراب کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس سے زیادہ ایسے مقامات بتانے کے لئے تیار ہوں جن کو میئر نے تباہ کیا۔ خواجہ اظہار کے اعتراض پر وزیر ثقافت نے کہا کہ فریئر حال کے بارے میں خواجہ اظہار سے پوچھا جائے وہ کے ایم سی کے ترجمان کیوں بنے ہوئے ہیں۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments