آئی جی سندھ نے سندھ پولیس ایف ریڈیو اسٹیشن88.6 پرشہریوں سے فون کالزپران کے مسائل ومشکلات پوچھیں

جمعہ نومبر 18:16

آئی جی سندھ نے سندھ پولیس ایف ریڈیو اسٹیشن88.6 پرشہریوں سے فون کالزپران ..
کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام نے سندھ ہولیس ایف ریڈیو اسٹیشن88.6 کے فون نمبر0219213663 پر شہریوں سے فون کالز پر براہ راست گفتگو کی اور انھیں درپیش مسائل ومشکلات کے حل/اذالوں کے لیئے متعلقہ پولیس افسران کو ناصرف ہدایات جاری کیں بلکہ تعمیلی رپورٹس بھی ارسال کرنیکا کہا۔انہوں نے تمام ڈی آئی جیز کو ہدایات جاری کیں کہ شہریوں اور محکمہ پولیس سے وابستہ ملازمین کے مسائل اور مشکلات کا احاطہ کرنے اور انھیں حل کرنے کے ضمن میں علیحدہ علیحدہ کھلی کچہریاں لگائیں تاکہ پولیسنگ کے جملہ امور کو عملا موثر اور عوام دوست بنایا جاسکے۔

آئی جی سندھ نے ایف ریڈیو اسٹیشن پر ذریعہ فون کالزعوامی مسائل سننے اور حل کرنیکے سلسلے کو جاری رکھنے کیعزم کا اظہار کرتے ہوئے تمام ڈی آئی جیز کو ہدایات جاری کیں کہ سندھ پولیس ایف ریڈیو اسٹیشن سے باقاعدہ رابطہ کرکے شیڈول ترتیب دیا جائے اور عوام سے براہ راست بات چیت کرکے ان کے مسائل سنیں اور انھیں حل کرنیکے لیئے تمام ترممکنہ اقدامات کو یقینی بنائیں۔

(جاری ہے)

آئی جی سندھ نے ایف ریڈیو اسٹیشن سے جاری ایک پیغام میں عوام سے کہا کہ لوگوں کے کام آنا اور انکی خدمت کرنے میں ہمیں خوشی ہوتی ہے۔سندھ پولیس آپ کی اپنی پولیس ہے ہمیں ہروقت آپکے صلاح ومشاورت اور رہنمائی کی ضرورت ہے ہم آپ کے لیئیدستیاب ہیں اور آپ ہم تک رسائی بلاکسی روک ٹوک کرسکتے ہیں۔مجھ تک بھی آپ کی رسائی ہے آپ میرا نمبر لیں اور مجھے اپنی تجاویز اور رائے دیں کہ کس طرح پولیسنگ کو مذید بہتری کی جانب گامزن کیا جاسکتا ہے۔

سندھ پولیس شہر میں امن سکون کے لیئے بڑی محنت سے کام کررہی ہے اور اسکے شہدا نے امن وامان کی بحالی اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کی خاطر اپنی قیمتی جانوں تک کی پرواہ نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس آپکی اپنی پولیس ہے ہم آپ ہی میں سے ہیں اور آپ ہی میں سے بہت سے لوگ سندھ پولیس کے مختلف شعبہ جات میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔یہ محکمہ آپ ہی کا ہے آئیں آگے بڑھیں اور خدمت میں ہمارے ساتھ شانہ بہ شانہ کام کریں۔تاکہ لوگوں کا تحفظ مذید بہتر بناسکیں انھیں خوشیاں دے سکیں اور باہم اشتراک سے معاشرے کو امن کا گہوارہ بناسکیں۔

متعلقہ عنوان :

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments