پولیس کو فل فرائی اور ہاف فرائی کی کسی صورت میں اجازت نہیں دیں گے،وزیراعلیٰ سندھ

ملزمان کا فیصلہ کرنے کے لئے عدالتیں موجود ہیں وہ سزائیں دیں اور پولیس کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ از خود کسی کو سزا دے،سیدمراد علی شاہ سندھ حکومت براہ راست لون نہیں لے سکتی، ہم اسٹیٹ بینک سے (اوور ڈرافٹ) او ڈی لیتے ہیں،سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران جوابات

جمعہ نومبر 18:59

پولیس کو فل فرائی اور ہاف فرائی کی کسی صورت میں اجازت نہیں دیں گے،وزیراعلیٰ ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیس کو فل فرائی اور ہاف فرائی کی کسی صورت میں اجازت نہیں دیں گے۔ ملزمان کا فیصلہ کرنے کے لئے عدالتیں موجود ہیں وہ سزائیں دیں اور پولیس کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ از خود کسی کو سزا دے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ جو بھی پولیس آفسر ہاف فرائی یا فل فرائی میں ملوث ہوگا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے یہ یقین دہانی جمعہ کو سندھ اسمبلی کے وقفہ سوالات کے دوران محکمہ خزانہ و انسانی حقوق سے متعلق ارکان کے مختلف تحریری و ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کرائی۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا عارف جتوئی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے وفاق سے 14.132 ملین روپے کے 23 کیش ڈولپمنٹ لونس (سی ڈی ایل) لیئے ہیں، ان لونز کے سالانہ انٹریس ریٹس 7.42 فیصد سے 17.71 فیصد ہیں جو 24 سالوں میں واپس کرنا ہیں جس کا 5 سال گریس پیرڈ ہے۔

(جاری ہے)

لونس کے دو سی ڈی ایل اور ایس سی اے آر پی اقسام ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ لون 2003 تک لیئے گئے تھے اس کے بعد کوئی لون نہیں لیا گیا۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کی ڈیبٹ مینجمنٹ اسٹرٹجی ہے، ہم نے 2008 میں رٹائر کیئے تھے لیکن اب وفاقی حکومت اجازت نہیں دیتی، لون کی گارنٹی وفاقی حکومت کی طرف سے ہوتی ہے، آج کل نہیں مل رہی۔

آخری لون 4-2003 میں لیا گیا تھا۔ سندھ حکومت براہ راست لون نہیں لے سکتی، ہم اسٹیٹ بینک سے (اوور ڈرافٹ) او ڈی لیتے ہیں۔ : وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ محکمہ خوراک گندم کی خریداری کے لیئے کمرشل بینک سے لون لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ حکومت نے بھی اسٹیٹ بینک سے او ڈی لی تھی، ہم نہیں لے رہے ہمارے پاس فنڈز موجود ہیں۔

تعلیمی حقوق کے متعلق وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ تعلیم ایک بنیادی حق ہے اور ہم نے تعلیم مفت کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہم ٹیسٹ کتابیں بھی مفت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اساتذہ کی تربیت کر رہے ہیں اور اساتذہ کی بھرتی میرٹ پر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھوسٹ اساتذہ کے خلاف ا?پریشن جاری ہے۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سندھ پولیس کے خلاف ہیومن رائیٹس کو سال 2015میں 20، سال 2016ء میں 8، 2017 میں ایک اور 2018 میں 2 شکایات موصول ہوئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حساب سے چار سالوں میں 31 شکایات موصول ہوئیں۔ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ ہماری ہیومن رائیٹس کمیشن کی سربراہی جسٹس ماجدہ رضوی کرتی ہیں۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے پرنٹ میڈیا کے ذریعے ہیومن رائیٹس خلاف ورزی کی گذشتہ چار سالوں میں 4326 مقدمات حل کیئے۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کے ٹول فری نمبر پر ہیومن رائٹس کی موصول کی گئیں 397 شکایات حل کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت فری لیگل ایڈ کے اداروں کو فنڈنگ کرتی ہے تاکہ وہ ہیومن رائیٹس کے مقدمات کو لیگل فورمز پر اٹھا سکیں۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے شرجیل میمن کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو فل فرائی اور ہاف فرائی کی کسی صورت میں اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں موجود ہیں وہ سزائیں دیں اور پولیس کو یہ اجازت نہیں ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ جو بھی پولیس افسر ہاف فرائی یا فل فرائی میں ملوث ہوگا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کارو کاری یا خودکشی کیمقدمات بھی ہیومن رائیٹس کی نظر سے دیکھے جا رہے ہیں۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہیومن رائیٹس کی خلاف ورزی کی شکایات کا ٹول فری نمبر 00011-0800 ہے جو 24 گھنٹے کام کرتا ہے،۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص مفت میں کال کر کے شکایات درج کروا سکتا ہے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے خصوصی طور پر بچوں کے حقوق کا مواد نصاب میں شامل کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ 4806 پیش امام کو انسانی حقوق کے حوالے سے لٹریچر تقسیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لٹریچر انسانی حقوق، خواتین اور یتیموں کے حقوق کے حوالے سے ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے ڈویزنل ہیڈکوارٹرز میں پولیس فیسلٹیشن سینٹرز قائم کیئے ہیں جہاں پر کوئی بھی شخص اچھے ماحول میں شکایت کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ سینٹرز ضلعی ہیڈکوارٹرز میں قائم کیئے جائیں گے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم اسٹریٹ چلڈریں اور بچوں کی گداگری کے خاتمے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بچوں کو بحالی سینٹرز پر شفٹ کریں گے، اگر انکے والدیں ا?ئے تو ان کا بچہ انکو واپس کر دیا جائے گا۔

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اے ڈی پی میں 18-2017 میں محکمہ خوراک کی چار اسکیمیں رکھی گئیں ہیں اور ان اسکیموں پر کل 120 ملین روپے مختص کیئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ فنانس نے اس سلسلے میں 85 ملین روپے جاری کیئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح محکمہ لیبر کی چار اسکیمیں ہیں جس کے لیئے 32.172 ملین روپے جاری کیئے گئے ہیں۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments