پولیس ایس ایس پی طاہر داوڑ کا اسلام آباد سے اغوا کے بعد افغانستان سے لاش ملنا انتہائی ہولناک واقعہ ہے، شاہی سید

ملکی سلامتی کے لیے لڑنے والے بہادر پولیس افسر کے ساتھ رونماء ہونے والے ظلم پر وفاقی و صوبائی حکومتیں خاموش تماشائی بنی رہی

جمعہ نومبر 22:37

پولیس ایس ایس پی طاہر داوڑ کا اسلام آباد سے اغوا کے بعد افغانستان سے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر شاہی سید نے کہا ہے کہ پولیس ایس ایس پی طاہر داوڑ کا اسلام آباد سے اغوا کے بعد افغانستان سے لاش ملنا انتہائی ہولناک واقعہ ہے ۔

(جاری ہے)

طاہر داوڑ کے اغواء کے واقعے کے بعد دو ہفتوں تک ریاست کی بے حسی سمجھ سے بالا تر ہے ملکی سلامتی کے لیے لڑنے والے بہادر پولیس افسر کے ساتھ رونماء ہونے والے ظلم پر وفاقی و صوبائی حکومتیں خاموش تماشائی بنی رہی، واقعے کی بڑے پیمانے پر جامع اور مکمل تحقیقات کی جائیںشہید کے لواحقین کا موقف ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہے پختونوں کو پیغام دیا جارہا ہے کہ وہ پاکستان کے سب سے محفوظ تصورکیے جانے والے شہرمیں بھی غیر محفوظ ہیں حکومت اور ریاستی ادارے بتائیں کہ عوام کی حفاظت کے اعلیٰ منصب پر فائز شخص اغوا کے بعد کیسے درجنوں چیک پوسٹوں سے گزرتا ہوا دوسرے ملک پہنچایا گیا ،اس واقعے کے حوالے سے وزیر مملکت برائے داخلہ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے بیانات عوام سے سنگین مذاق ہے ماضی میں معمولی واقعات پر استعفے کا مطالبہ کرنے والاآج کس منہ سے وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہیںباچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر نے مذید کہا ہے کہ طاہر خان داوڑ قوم ولی کی اقدار کو سمجھنے والے بہادر اور محب وطن سپوت تھے مرحوم ملک و قوم کے حوالے سے انتہائی حساس سوچ رکھنے والے انسان تھے ملکی سلامتی کے لیے قربانیاں دینے والے کی حفاظت میں کوتاہی ریاستی المیہ ہے حکمرانوں نے طاہر داوڑ کے حوالے سے غفلت و بے حسی کا مظاہرہ کرکے قوم کی حفاظت کے لیے مصروف عمل افسران کو کیا پیغام دینے کی کوشش کی ہے طفلانہ سوچ کے حامل حکمرانوں کو معاملے کی سنگینی کا ابھی تک ادراک نہیں ہے افسوس کہ طاہر داوڑ کی شہادت سے لیکر جسد خاکی کا ورثاء کو حوالگی تک حکومتی وزراء کا کردارناقابل برداشت تھاانہوں نے مذید کہا کہ پلوں کے نیچے بہت پانی بہہ چکا اب ہمیں انصاف دینا ہوگااب مذید ریاستی امتیاز ناقابل برداشت ہے جذباتی نعروں کو رد عمل کی طرف جانے سے روکا جائے ہوش کے ناخن لیے جائیں طاہر داوڑ کی شہادت کو روایتی تحقیقات کی نظر نہ کیا جائے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور غفلت برتنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments