سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے بعد اب کراچی کی فٹ پاتھوں، سڑکوں اور پارکوں میں تجاوزات باقی نہیں رہ سکتیں، میئر کراچی وسیم اختر

کیٹرک سہراب روڈ پر واقع 100 سے زائد غیرقانونی دکانوں سمیت انٹر سٹی بس ٹرمینل کے نام پر جو غیرقانونی دکانیں اور تجاوزات قائم کی گئی تھیں انہیں بھی ہٹا دیا گیا سرکلر ریلوے ٹریک کے دونوں جانب سے تجاوزات کے خاتمے کے لئے منصوبہ بندی شروع کردی گئی ہے

اتوار نومبر 19:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے بعد اب کراچی کی فٹ پاتھوں، سڑکوں اور پارکوں میں تجاوزات باقی نہیں رہ سکتیں، سرکلر ریلوے ٹریک کے دونوں جانب سے تجاوزات کے خاتمے کے لئے منصوبہ بندی شروع کردی گئی ہے، صدر اور ایمپریس مارکیٹ کے اطراف پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی تجاوزات تھیں جن کو ہٹا دیا گیا ہے اور اب یہ کام صدر کے علاقوں سمیت شہر بھر میں جاری ہے، کیٹرک سہراب روڈ پر واقع 100 سے زائد غیرقانونی دکانوں سمیت انٹر سٹی بس ٹرمینل کے نام پر جو غیرقانونی دکانیں اور تجاوزات قائم کی گئی تھیں انہیں بھی ہٹا دیا گیاہے، تجاوزات قائم کرنے والے فٹ پاتھوں اور سرکاری زمین پر قابض ہو کر خود تو ہزاروں اور لاکھوں روپے کما رہے ہوتے ہیں مگر عوام کو سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہو رہااور پیدل چلنے والوں کو بھی شدید مشکلات لاحق تھیں، ہمارا عزم ہے کہ ہم کراچی کو اس کی اصل شکل میں واپس لائیں گے اور اس میں ہمیں شہریوں اور کاروباری حضرات کا بھرپور تعاون حاصل ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کی دوپہر صدر کراچی کنٹونمنٹ کے علاقے کیٹرک سہراب روڈ میں تجاوزات کے خلاف ہونے والی کارروائی کا معائنہ کرنے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن اور دیگر افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی وسیم اختر نے تجاوزات کے خلاف ہونے والی کارروائی کا بغور جائزہ لیا اور شہریوں سے ملاقات کی اس موقع پر بعض شہریوں نے صدر سے تجاوزات ہٹائے جانے اور ایمپریس مارکیٹ کو چاروں کونوں سے اس کی اصل حالت میں لانے پر میئر کراچی سے اظہار تشکر کیا، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ایمپر یس مارکیٹ کے اطراف قائم تجاوزات پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی انکروچمنٹ تھیں جس کو ہٹانے کے لئے مختلف شہری اداروں نے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور ساتھ ہی ساتھ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے پولیس اور رینجرز کا تعاون بھی ہمیں حاصل رہا، یہی وجہ ہے کہ بغیر کسی نقصان کے تجاوزات کے خلاف کارروائی کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے ،تجاوزات کے خلاف ہونے والا آپریشن شہر کے دیگر حصوں میں بھی بلاامتیاز جاری ہے لہٰذا دکاندار اور کاروباری حضرات اپنی ان اشیاء کو جو فٹ پاتھوں پر رکھی ہوئی ہیں ازخود ہٹالیں وگرنہ نقصان کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے، میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی اچھے کام کو کرنے کے لئے چند ناپسندیدہ عناصر کی جانب سے مزاحمت تو کی جاتی ہے مگر یہ اتنی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ بڑے بڑے کام کرنے اور اچھے مقاصد حاصل کرنے کے لئے چھوٹی موٹی مزاحمتوں کا سامنا معمولی بات ہے انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف ہونے والی اس کارروائی میں زیادہ تر دکانداروں اور کاروباری حضرات نے ازخود تعاون کیا اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے نوٹس کی وصولیابی کے بعد بہت سارے دکانداروں اور کاروباری حضرات نے اپنی حد سے بڑی ہوئی دکانوں یا نالوں، فٹ پاتھوں اور پارکوں میں بنی ہوئی دکانوں کو ازخود کارروائی کرتے ہوئے ہٹا دیا تھا جس پر ہم ان کے مشکور ہیں،انہوں نے کہا کہ شہر کو صاف ستھرا بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے اس شہر کو خوبصورت بنانے کے لئے یہاں رہنے والوں کو مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی، میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے میئر کراچی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تجاوزات کے خلاف ہونے والی یہ کارروائی بلاامتیاز پرامن طریقے سے جاری ہے کہیں کہیں بعض مقامات پر ہلکی اور معمولی نوعیت کی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن بہتر اور عمدہ ٹیم ورک کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ پولیس اور رینجرز کی مدد سے اس پر قابو پالیا گیا بلکہ کیٹرک سہراب روڈ پر واقع تمام تجاوزات کو ہٹا دیا گیا ہے جس پر اطراف کے مکینوں اور دیگر شہریوں نے اس سڑک کے کشادہ ہونے پر اپنی دلی مسرت کا اظہار کیاہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments