تیسر ٹائون میں کرنٹ لگنے سے 4سالہ خضر کے ورثاء کو انصاف فراہم کیا جائے ،ْ حافظ نعیم الرحمن

کے الیکٹرک کی انتظامیہ اور متعلقہ ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ، جماعت اسلامی متاثرہ خاندان کے ساتھ ہے

اتوار نومبر 20:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کے الیکٹرک کی نا اہلی اور غیر انسانی رویہ کے باعث تیسر ٹائون میں 4سالہ خضر کے جاں بحق ہو نے پر کے الیکٹرک کی انتظامیہ اور متعلقہ ریجن اور ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور بچے کے ورثاء کو انصاف فراہم کیا جائے ۔ جماعت اسلامی متاثرہ خاندان کے ساتھ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کے تاروں سے کرنٹ لگنے سے تیسر ٹائون میں 4سالہ خضر کی ناگہانی موت‘ ہلاکت کا دوسرا واقعہ ہے ۔اس سے قبل ملیر میں بھی معصوم اذہان بارش کے دوران تار گر نے اور کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو ا جبکہ تاروں سے کرنٹ لگنے سے دو بچے اپنے ہاتھوں سے محروم ہو چکے ہیں ۔ علاوہ ازیں پی ایم ٹی گر نے کے واقعے میں بھی شہری کے زخمی ہونے کی اطلاعات موجود ہیں ۔

(جاری ہے)

کرنٹ لگنے والے تمام واقعات میں تاروں کے گر نے اور کرنٹ پھیلنے کی اطلاع کے الیکٹرک کو دی گئی مگر عملے اور متعلقہ ذمہ داران کی طرف سے مجرمانہ غفلت و لاپرواہی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ شکایت کر نے اور اطلاع دینے کے باوجود کے الیکٹرک والے تاروں کو درست کر نے نہیں آئے جس کی وجہ سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں ۔ جبکہ اس حالیہ واقعے میں انتہائی غیر انسانی اور سفاکانہ رویے کا مظاہرہ کیا گیا اور علاقہ مکینوں کی شکایت پر اس علاقے کو ہائی لاسز زون قرار دے کر عملے کو نہیں بھیجا گیا اور بالآخر یہ سانحہ رونما ہوا اور ایک بچہ اپنی جان کی بازی ہار گیا ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کے الیکٹرک کا ادارہ کراچی کے عوام کے لیے زحمت بن چکا ہے اور اس کی نا اہلی و ناقص کارکردگی سے شہری سخت نالاں ہیں ۔ لوڈشیڈنگ ،اووربلنگ اور اب بریک ڈائون نے عوام کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے لیکن اس سے کوئی پوچھنے اور جواب طلب کر نے والا نہیں ۔ نیپرا کی جانب سے صرف نمائشی اقدامات اور بیانات کے بعد خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے ۔

اب صورتحال انتہائی سنگین ہوتی جا رہی ہے اور کے الیکٹرک کی نظر میں انسانی جانوں کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ کرنٹ لگنے سے بچے کی ہلاکت کا حالیہ واقعہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں اور حکومتی پارٹیوں کے عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے پر چشم پوشی اختیار کر نے کے بجائے کے الیکٹرک کے خلاف سخت کارروائی کر نے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔

متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کریں اور عوام کو ریلیف دلائیں ۔انہوںنے کہا کہ جماعت اسلامی مظلوموں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کو ان کا حق دلانے کے لئے ہرممکن کوشش کرے گی۔اگر اس سے قبل کے الیکٹرک وجہ سے ہلاک اور زخمی ہونیوالوں کی داد رسی حکومت اور عدالتیں بروقت کر دیتیں تو بعد کے واقعات سے بچا جاسکتا تھا۔اگر اب بھی عدالتیں فیصلے جلددیں تو آئندہ واقعات کی پیش بندی ہوسکتی ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments