پچھلے پانچ سال میں پاکستان کی برآمدات میں ایک فیصد بھی اضافہ نہیں ہوا ،گورنر سندھ

صرف تین ماہ ہوئے ہیں ہمارا ساتھ دیں، برآمدات میں جو رکاوٹیں ہیں انہیں دور کرنے پر حکومت کی خاص توجہ ہے، کاٹی میں تقریب سے خطاب

منگل نومبر 19:41

پچھلے پانچ سال میں پاکستان کی برآمدات میں ایک فیصد بھی اضافہ نہیں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان میں تمام معدنی ذخائر ہیںاور ان سے استفادہ حاصل کرنے اور نئے منصوبوں کے لئے وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتا ہوں۔ وزیراعظم عمران خان 100 دن کی رپورٹ پیش کرنے جارہے ہیں اوروہ پاکستان کو کس طرف لے جارہے ہیں یہ واضح کریں گے ۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہارمنگل کو کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ انڈسٹری(کاٹی) میں تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کے دوران کہی۔اس موقع پرکاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر،صدر دانش خان،سینئرنائب صدرفرزا الرحمان، کائٹ لمٹیڈ کے چیئرمین وسی سی اوزبیرچھایا،سینیٹر عبدالحسیب خان،ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر زاہد سعیدنے بھی خطاب کیا جبکہ کاٹی کی نائب صدر ماہین سلمان، معروف سرمایہ کار عقیل کریم ڈھیڈھی،گلزار فیروز، زین بشیر، مسعودنقی، جوہرعلی قندھاری،حنیف گوہر،فرحان الرحمان،ڈی سی کورنگی مس قر ة العین، اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔

(جاری ہے)

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پچھلے پانچ سال میں پاکستان کی برآمدات میں ایک فیصد بھی اضافہ نہیں ہوا جبکہ امپورٹ7فیصد بڑھی ہیں اور شرمناک بات یہ ہے کہ ایسی چیزیں درآمد کی گئیں جن کے بغیر زندہ رہ سکتے تھے، پاکستان میں معدنی ذخائر سمیت تمام تر وسائل موجود ہیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے قوم کو بہت سی توقعات وابستہ ہیں کیونکہ ہم22سال یہ بتاتے آرہے ہیں کہ تبدیلی کیسے آئے گی،میںمشکور ہوں کہ چیف جسٹس نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کا حکم دیا ہے، ہم واٹر بورڈ کے ساتھ ملکر بہت کام کرنا چاہتے ہیں، کراچی میں پانی کی سپلائی کا نظام درست کرنا ہوگا، پانی کو مفت کا مال سمجھ کر ضائع کیا گیا،میں سوئی سدرن گیس کمپنی سے بھی گیس سپلائی کے مسئلے ہر بات کروں گا، پانی کا معاملہ حل کرنے کیلئے صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کررہاہوں۔

گورنر سندھ نے مزید کہا کہ میرے والد عبداللہ اسماعیل نے کاٹی سے ابتدا کی تھی اور وہ کورنگی ایسوسی ایشن بانی میں میں سے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف تین ماہ ہوئے ہیں ہمارا ساتھ دیں، برآمدات میں جو رکاوٹیں ہیں انہیں دور کرنے پر حکومت کی خاص توجہ ہے، پاکستان اس وقت مشکل دوراہے پر ہے اگرخدانخواستہ پاکستان نہ رہے تو نہ فیکٹری ہوگی اور نہ گھر ہوگا اس لئے ملک کی مضبوطی کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے، قربانی حکومت کی جانب سے بھی شروع ہوئی ہے ،وزیراعظم ہائوس نے اگر 14کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے تو اس سے یقیناًپاکستان کے خزانے پر اثر نہیں پڑے گا مگر قطرہ قطرہ دریا بنتاہے، ٹیکس چوری کرنے والوں کو بھی درست ہونا ہوگا۔

انکا مزید کہنا تھاکہ 100دن مکمل ہونے پر تمام ادارںکی تفصیلی کارکردگی دیکھائی جائے گیُ۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ کراچی کے لئیے پانچ منصوبے وزیر اعظم کی جانب سے دئیے گئے ہیں جن میںگرین لائن، سرکلر ریلوے، نادرن بائی پاس اور واٹر ٹریٹمینٹ پلانٹ کراچی پیکیج میں شامل ہیں ، وزیر اعلی سندھ سے میریK4منصوبے پر بات ہوئی ہے،سندھ کے تمام منصوبوں میں وفاق بھر پور تعاون کرے گا،کے فور منصوبے میں کچھ تکنیکی مسائل ہیں ان کو حل کرکے مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔

ایس ایم منیرنے اس موقع پر کہا کہ ملکی برآمدات بڑھانے میں وزیر اعظم عمران خان خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں،فیصل آباد میں 80 فیصد انڈسٹری بند پڑی ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ جو فیکٹریاں بند ہیں انہیں کھولنے اور ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے ایکسپورٹرز کو انکے ریفنڈز فوری ادا کئے جائیں۔صدرکاٹی دانش خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان چین سمیت جس ملک میں بھی گئے انہوں نے ایکسپورٹ بڑھانے کی بات کی ہے،پاکستان میں ایگرو انڈسٹری پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ چین زرعی مصنوعات کا بہت بڑا خریدار ہے اور سی پیک کے مکمل ہونے سے چین پاکستان سے پھل اور سبزیاں خرید سکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کیلئے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے،وزیراعظم عمران خان اگلے دس سال ترقی کا پلان دیں کہ کیسے ملکی برآمدات کو اگلے دس سال میں40ارب ڈالر تک پہنچایا جاسکتا ہے جبکہ قرضوں کے عذاب سے جان چھڑائی جائے اور کراچی پیکج کا فوری اعلان کیا جائے۔ زبیرچھایا نے کہا کہ ملک بھر میں صنعتی سیکٹر کیلئے الگ الگ باڈیزہونی چاہیئے،انڈسٹریل پارک سیاست کی نظر ہوچکا ہے اور وہاں بجلی تک دستیاب نہیں ہے،250ایکڑکے اس پارک کو فعال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی اکنامی کا حصہ بن سکے ۔

سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خو میں نے ہمیشہ کرپشن کے خلاف بات کرتے سنا ہے اور حقیقت یہی ہے کہ کرپشن کو اگر جڑ سے اکھاڑ پھینکاجائے توملک سدھر سکتا ہے اور یہ کام صرف عمران خان ہی کرسکتے ہیں۔زاہدسعید نے کہا کہ کراچی کی انڈسٹری کے مسائل حل کئے بغیرایکسپورٹ نہیں بڑھ سکتی،انڈسٹریل پارک کے بورڈ میں نجی شعبے کی65فیصد ممبران تھے لیکن اب 65فیصد ممبران سرکاری ہیں جس کی وجہ سے انڈسٹریل پارک بدحال ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments