سندھ ہائیکورٹ نے سرکاری وکیل سے سندھ یونیورسٹی ترمیمی ایکٹ 2018 سے متعلق دلائل طلب کر لئے

منگل نومبر 20:29

سندھ ہائیکورٹ نے سرکاری وکیل سے سندھ یونیورسٹی ترمیمی ایکٹ 2018 سے متعلق ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) ہائیکورٹ نے سندھ ترمیمی یونیورسٹیز بل 2018 کے خلاف درخواست پر سرکاری وکیل سے سندھ یونیورسٹی ترمیمی ایکٹ 2018 سے متعلق دلائل طلب کر لئے۔ دو رکنی بینچ کے روبرو سندھ ترمیمی یونیورسٹیز بل 2018 کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل عرفان عزیز ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سندھ میں یونیورسٹیز کا چانسلر گورنر سندھ ہوتا تھا۔

ایکٹ کے زریعے سیاسی بنیادوں پر تمام اختیارات وزیر اعلی سندھ کو منتقل ہوچکے ہیں۔ جس طرح سندھ میں اسکولوں کا برا حال ہے اس طرح یونیورسٹیز کا بھی بیٹرا غرق ہوجائے گا۔ یونیورسٹی بل اب ایکٹ بن چکا ہے۔ بل غیر قانونی ہے کالعدم قرار دیاجائے۔ بدنیتی کی بنیاد پر صوبے کی چوبیس جامعات کو وزیر اعلی کے تابع کردیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

صوبے کے شہری علاقوں پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

جامعات کی خود مختاری چھین لی گئی سنڈیکیٹ کی 10 میں سے 8 نشستوں پر بیورو کریٹ تعینات ہونگے۔ تعلیمی ماحول تباہ ہو جائیگا اور جامعات سیاسی گڑھ بن جائینگی۔ حکومت سندھ کی جانب سے جواب داخل نہ کرنے پر عدلت برہم ہوگئی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قانون کا مسودہ ہر حال میں پیش کیا جائے۔ عدالت کی برہمی کے بعد حکومت سندھ کی جانب سے سندھ یونیورسٹی ترمیمی ایکٹ 2018 کی کاپی پیش کردی گئی۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے سندھ یونیورسٹی ترمیمی ایکٹ 2018 سے متعلق دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کردی۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments