کے الیکٹرک کی جانب سے کمسن خضر حیات کے اہل خانہ کو دھمکیوں کا نوٹس لیا جائے ،ْ حافظ نعیم الرحمن

منگل نومبر 22:28

کے الیکٹرک کی جانب سے کمسن خضر حیات کے اہل خانہ کو دھمکیوں کا نوٹس لیا ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کے الیکٹرک کی انتظامیہ کی جانب سے تیسر ٹائون میں کے الیکٹرک کے ٹوٹے ہوئے تاروں سے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے کمسن خضر حیات کے اہل خانہ کو ڈرانے دھمکانے اورابراج گروپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرانے سے باز رکھنے کی کوششوں اور دبائو ڈالنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس کا نوٹس لیا جائے اور خضر حیات کے لواحقین کی مدعیت میں جس کے خلاف بھی وہ چاہتے ہیں مقدمہ درج کیا جائے،ورثاء کو انصاف فراہم کیا جائے ، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اس سے قبل جب ملیر میں بارش کے دوران کے الیکٹرک کے تار ٹوٹنے اور کرنٹ لگنے سے معصوم اذہان جاں بحق ہوا تھا تب بھی کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے سی ای او کے خلاف مقدمہ درج کرانے میں روکاوٹیں ڈالی تھیں اور اسی طرح کا رویہ اختیار کیا تھا ۔

(جاری ہے)

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ٹوٹے ہوئے بجلی کے تاروں سے کرنٹ لگنے سے ناگہانی موت کا یہ دوسرا واقعہ ہے جبکہ اسی وجہ سے دو بچے اپنے ہاتھوں سے بھی محروم ہو چکے ہیں لیکن تاحال کے الیکٹرک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے اور ورثاء اور لواحقین انصاف کی تلاش میں سر گرداں ہیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ خضر حیات کے افسوسناک واقعے میں کے الیکٹرک کی انتظامیہ اور ذمہ داران نے انتہائی غفلت ، غیر انسانی اور سفاکانہ رویہ اختیار کیا اور ٹوٹے ہوئے تاروں کو درست کر نے کے لیے اہل محلہ کی جانب سے شکایت کر نے اور باقاعدہ اطلاع دینے پر اس علاقے کو ہائی لاسز زون قرار دے کر مکمل طور پر نظر انداز کیا جو ایک سنگین جرم ہے اگر بروقت کارروائی کی جاتی اور ٹوٹے ہوئے تاردرست کر دیئے جاتے تو ہو سکتا ہے کہ واقعہ رونما نہ ہوتا ۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی خضر حیات کے لواحقین اور اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہے اور ان کے ساتھ ہے ، ان کو انصاف فراہم کیا جائے اور کے الیکٹرک کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments