تعلیمی بہتری کیلئے سماجی شعور کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ

حیدرآباد کے بعد اب کراچی کی سول سوسائٹی کی تجاویز بھی تعلیمی پالیسی کا حصہ ہونگی، ریکروٹمنٹ پالیسی کا نئے سرے سے جائزہ لے رہے ہیں

منگل فروری 22:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 فروری2019ء) محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے صوبے میں تعلیم کی بہتری کے لیے سول سوسائٹی سے تجاویز لینے کے مقصد کے ساتھ حیدرآباد کے بعد دوسرا مشاورتی ورکشاپ کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کیا گیا۔ مشاورتی ورکشاپ میں سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی، ممبران سندھ اسمبلی مہتاب اکبر راشدی، شہریار مہر, ندا کھڑو, تنزیلہ قمبرانی, قاسم سومرو, نامور ایجوکیشنسٹ, اسکالرز, جرنلسٹس اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

ورکشاپ سے ویلکم ایڈریس کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ یہ پوائنٹ اسکورنگ کرنے والی پریکٹیسز کو ختم کرنے کی ضرورت ہی. آج ہمارے لیے چیلیجنگ صورتحال یہ ہے کہ ہمارے پاس بیالیس ہزاراسکول سسٹم میں موجودہیں اور ان میں سے 39ہزار پرائمری اسکول ہیں اور صرف 3 ہزار سکینڈری ہائی اسکول ہیں۔

(جاری ہے)

وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں بہت بہتری کی گنجائش ہے اور سرکاری محکمے تنہا عقل کل نہیں, سماجی شعور کے ساتھ پالیسی مرتب کررہے ہیں۔

مشاورتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم سردار شاہ نے کہا کہ انہوں نے صرف حکومتی پارٹی ارکان کو مدعو نہیں کیا بلکہ اپوزیشن ممبران کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور تمام مکتبہ فکر کے سرگرم افراد کی تنقید و تجاویز کو کھلے دل سے قبول کیا ہے اور تمام مناسب تجاویز کو تعلیمی ایکشن پلان کا حصہ بنایا جائیگا۔ محکمے کی طرف سے کراچی کی سول سوسائٹی کے 200 سے زائد نمائندگان, تعلیم دان, اور سماجی ورکرز کی شرکت سے ایک مشاورتی ورکشاپ منعقد کیا گیا جس میں پورے دن کے بحث مباحثے کے بعد انہوں نے محکمہ تعلیم کو اپنی تجاویز تعلیمی پالیسی میں شامل کرنے کی سفارش کی۔

ان میں ڈاکٹر فہمیدہ حسین, محبوب شیخ, قرت مرزا, نیاز پنہور, نوید شیخ, ضعفرین, فرحان قاضی, آکسفیم, ایس سی ڈی پی اور دیگر اداروں کے نمائندگان شامل ہیں۔ بعد ازاں ورکشاپ کے اختتام پر وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آج مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے پانچ گھنٹے تعلیمی پالیسی کے حوالے سے اپنی تجاویز اور آراپیش کیں۔

جن کو ہم جائزہ لینے کے بعد اپنی تعلیمی پالیسی کا حصہ بنائیں گے۔ ہم نے اپنے روڈ میپ ایکشن پلان کو تین حصوں جس میں رسائی, معیار, اور بہترحکمرانی میں تقسیم کیا ہے جس کے متعلق حقائق پر مبنی تصویر اور اس کی بہتری کے لیے ایکشن پلان وضع کیا ہے جس میں بہتری کے لیے آج کافی بہتر تجاویز سامنے آئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سسٹم کو اون کرنا ہے، ہم نے عیب نہیں چھپائے اور ہم نے اپنی خامیو ں کو دل سے تسلیم کیا ہے۔

سردار شاہ نے مزید کہا کہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو صاحب کی اولین ترجیح صوبے میں تعلیم اور صحت کی سہولیات کی بہتری ہے اور ہم اس پر دن و رات محنت کر رہے ہیں.ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تعلقہ ایجوکیشن افسر سمیت تمام اسامیوں کی بھرتیوں کے لیے بنائے گئے رکروٹمنٹ رولز کا نئے سرے سے جائزہ لے رہے ہیں۔ آرٹس کونسل کے سربراہ سید احمد شاہ نے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کو کہا کہ صوبے کے تعلیمی نظام میں موسیقی اور آرٹ کو شامل کرنے کی درخواست ہے اور اس کے لیے آرٹس کونسل کی طرف سے مفت ٹرینرز اور اساتذہ بھی فراہم کیے جائینگی. اس پر وزیر تعلیم سردار شاہ نے انکو بتایا کہ کچھ روز پہلے ہی محکمے کے اجلاس میں یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ ویجوئل اور پرفارمنگ آرٹس کی تعلیم بھی دی جائیگی۔

ایک اور سوال کے جواب میں سردار شاہ نے کہا کہ کسی پرائیویٹ اسکول کو ماورائے قانون کسی اقدام کی اجازت نہیں دینگی, سپریم کورٹ کے احکامات اور 2002 کے قوانین کی کوئی بھی خلاف کرنے والے پرائیویٹ اسکول کی رجسٹریشن کینسل کی جائے گی۔ سندھ ایجوکیشن فانڈیشن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سردار شاہ نے کہا کہ وزیراعلی سندھ سیف کے بورڈ کے چیئرمین ہیں اس لیے انکو ملنے والی تمام شکایات کے حوالے سے وہ سی ایم سے بات کرینگے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ادارے پالیسی بناتے ہیں اور سول سوسائٹی اسکی تصدیق کرتی ہیایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زیادہ تر پارلیمنٹیرینز محکمہ تعلیم کو ٹرانسفر اور پوسٹنگ ڈپارٹمنٹ سمجھتے ہیں۔ ہماری لیڈرشپ کی جانب سے مجھ پر کسی قسم کا کوئی پریشر یا سیاسی مداخلت نہیں ہے۔ محکمہ تعلیم کی طرف سے منعقدہ مشاورتی ورکشاپ میں سول سوسائٹی کے نمائندگان نے اپنی مختلف تجاویز پیش کیں۔

پہلے گروپ کے لیڈر نوید شیخ نے جینڈر ایکیولٹی پہ فوکس کیا اور اس کے علاوہ کہا کہ جہاں اسکولز نہیں وہاں مساجد اور مدارس کو استعمال کریں، کیوں کہ وہاں پہ چھت، واش روم اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔دوسرے گروپ کی لیڈر ضعفرین نے پرفارمنس اور تھرڈ پارٹی ھائرینگ اور ٹیچر کے لائسنس کی تجاویز پیش کیں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو سراہا۔تیسرے گروپ کے ذیشان صاحب نے ٹیکنیکل صلاحیتوں پر زور دیا اور کہا کہ جو ضلعہ جتنی بہتر کارکردگی دکھائے اس کو ایلوکیشن کی مد میں اتنا معاوضہ بھی دیئا جائے۔

ڈسٹرکٹ پلان ڈی سینٹرلائیز کرنے کی ضرورت ہے اور ٹیچرس ٹریننگ کی بات کی اور انہوں نے طالبات کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کی تجویز دی جو سہولیت صوبہ پنجاب میں پہلے سے موجود ہے۔ ریسرچ اینڈ ڈولپمنٹ پر بھی بات کی گئی۔چوتھے گروپ لیڈر ذرین نے کہا کہ ٹیچرز کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ٹیچرز کو مراعتیں دینے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ پالیسی لانگ ٹرم ھونی چاہیئے۔

پانچویں گروپ کے لیڈر محبوب شیخ نے اسی پالیسی پر عمل درآمد کرنے اور مینیجمینٹ کیڈر اور ٹیچر لائسنز اور پرفارمنس کی تجویز پیش کی اور کہا کہ بی ایڈ اور ایم ایڈ کی شرط لاگو نہیں ہونی چاہیئے۔ محبوب شیخ نے کہا کہ بی ایڈ یا ایم ایڈ نہیں عام گریجوئیشن یا ماسٹرز کرلیں کیونکہ ایک اچھا ایم فل یا پی ایچھ ڈی بھی استاد بھرتی نہیں ہو سکتا کیونکہ اس نے بی ایڈ نہیں کیا ہوا۔

نیاز پنہور نے کہا کہ وہ 30 سال سے صحافت سے منسلک ہے لیکن آج تک کوئی ایسا پروگرام نہیں دیکھا جس میں سرکاری محکمہ خود کو سوسائٹی کے سامنے پیش کررہا ہے اور محکمے کا وزیر, سیکریٹری اور دیگر افسران خود بیٹھ کر سوسائٹی کے تجاویز نوٹ کریں۔ انہوں نے کہا کہ محکمے کی طرف سے پیش کی گئی روڈ میپ میں پرائیویٹ اسکولز اور جدید ٹیکنالاجی کے بارے میں نہیں بتایا گیا محکمہ اس پر بھی واضع پالیسی بنائے۔

چھٹے گروپ کی ڈاکٹر فہمیدہ حسین نے ورکشاپ کی تعریف کی اور کہا کہ اسکولوں میں پانی اور سینیٹیشن کی دیگر سہولیات ہونی چاہیئیں۔ اور خاص طور پر جنسی برابری پر مبنی کریکیولم کی تشکیل اور اسٹیریوٹاپنگ کا خاتمہ بہت ضروری ہے اس کے علاوہ تاریخ کے مضامین میں پیش کیے گئے جعلی ہیروز کو نکال کر اس دھرتی کے اصل ہیروز بلکہ ان خواتین کے مضامین بھی شامل کریں جنہوں نے اپنا کردار ادا کیا۔

قرات مرزا نے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوشین ڈائریکٹوریٹ میں بہتری لانے کی تجویز دی۔ ساتویں گروپ کے عامر صاحب نے گورننس اور کریکیولم پر فوکس کیا۔ اسکول میپنگ یوسی سطح اور اداروں کی ڈپلیکیشن ختم کرنے کی تجویز دی. عوام کو آگاہی دیتے رہیں۔ آٹھویں گروپ کے لیڈر فرحان قاضی نے فنڈز کی شفافیت اور میوچل لرننگ پر بات کی۔ اور کہا کہ اسکولز کی ریٹنگ ہونی چاہیی. آخری گروپ نے سرچ کمیٹی میں رٹائرڈ ایجوکیشنسٹ کو شامل کرنے کی تجویز دی اور ڈراپ آٹ کو روکنے کے لیے تین سطح کا فارمولہ پیش کیا۔

شرکا نے مجموعی طور پر صوبے کے بچوں کی ڈیٹا کلیکشن, ٹیکنالاجی کے استعمال پر زور دیا۔ ورکشاپ سے قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی, ایم پی اے قاسم سومرو اور دیگر نے خطاب کیا۔ فردوس شمیم نقوی نے محکمہ تعلیم کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انکو سردار شاہ پر یقین ہے کہ وہ تعلیم کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں لیکن وہ یہ یقین دہانی کراوائیں کہ عملدرآمد بھی کروائیں گے اور ہر آئے دن سیکریٹری سمیت بیوروکریسی میں بڑی ردوبدل نہیں ہوگی جس سے پالیسی پر عملدرآمد مشکل ہو۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments