بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد اہم انکشافات سامنے آگئے

واقعہ ٹارگٹ کلکنگ قرار،3 درجن کے قریب افراد بسوں میں سوار تھے، شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد چن چن کر مارا گیا جب کہ حملہ آوروں نے فرنٹئیر کور کی وردیاں پہنی ہوئی تھیں

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات اپریل 14:17

بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد اہم انکشافات سامنے آگئے
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2019ء) بلوچستان میں مکران کوسٹل ہائی وے کے قریب مسلح افراد نے 14 مسافروں کو بسوں سے اتار کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لیویز ذرائع کے مطابق یہ واقعہ بلوچستان کے علاقے اوماڑہ میں پیش آیا۔جہاں مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کر دیا گیا۔ دہشت گردوں نے کراچی تا گوادر اور گوادر تا کراچی جانے والی بسوں کو روکا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے 5 بسوں سے مسافروں کو اتار کر قتل کیا، بزی ٹاپ کے علاقے میں رات ساڑھے بارہ سے ایک بجے کے درمیان تقریباََ 15 سے 20 مسلح ملزمان کے شناختی کارڈ دیکھے اور انہیں گاڑی سے اتار کر قتل کر دیا گیا۔لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ کل 16 مسافروں میں سے 14 کو قتل کیا گیا جب کہ دو بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔

(جاری ہے)

میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسافروں کا ہاتھ باندھ کر ایک لائن میں کھڑا کر کے قتل کیا گیا۔

بعد ازاں قتل کیے گئے افراد کی لاشیں نور بخش ہوٹل سے ملیں۔جنہیں قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔انسپیکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی ) بلوچستان محسن حسن بٹ نے کہا ہے کہ یہ واقعہ ٹارگٹ کلنک ہے۔اور متاثرہ افراد کو ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر قریب فاصے سے گولی ماری گئی۔اسی حوالے سے مقامی عہدیدار جہانگیر دشتی نے کہا ہے کہ3 درجن کے قریب افراد بس میں سفر کر رہے تھے۔

بلوچستان کے چیف سیکرٹری حید علی نے اے ایس پی کو بتایا کہ حملہ آوروں نے فرنٹئیر کور کی وردیاں پہنی ہوئی تھیں۔سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ مقتولین میں نیوی اور کوسٹ گارڈ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔جب کہ مسلح افراد کی جانب سے ان افراد کو قتل کرنے کی وجوہات تاحال معلوم نہ ہو سکیں۔جب کہ مقتولین کی شناخت کے بارے میں بھی ابھی واضح نہیں کیا گیا۔واقعے کے بعد جائے وقوع پر لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار پہنچ گئے اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیا جب کہ اس افسوسناک واقعے کی تحقیقات کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments