سابق صدر آصف علی زرداری کا قریبی ساتھی اور بھٹو ہاؤس کا انچارج عدالت میں رو پڑا

غریب آدمی ہوں، وکیل کرنے کے بھی پیسے نہیں ہیں، نہیں جانتا کہ اکاؤنٹ میں اتنے پیسے کہاں سے آئے، ندیم بھٹو

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ بدھ اپریل 00:35

سابق صدر آصف علی زرداری کا قریبی ساتھی اور بھٹو ہاؤس کا انچارج عدالت ..
کراچی(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23اپریل2019ء) نیب کی جانب سے گرفتار کیا گیا بھٹو ہاؤس کا انچارج ندیم بھٹو عدالت میں روپڑا۔ ندیم بھٹو نے عدالت میں کہا کہ میں غریب آدمی ہوں اور میرے پاس وکیل کرنے کے بھی پیسے نہیں ہیں۔ ندیم بھٹو نے روتے ہوائے عدالت میں کہا کہ وہ نہیں جانتا کہ اکاؤنٹ میں اتنے پیسے کہاں سے آئے۔ جج نے سوال کیا ہے کہ نوڈیورو والے کہاں گئے ؟ کیا مشکل وقت میں آپ لوگوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے تو ندیم بھٹو نے کہا کہ ’ہم غریب لوگ ہیں، ہمیں کوئی نہیں پوچھتا‘۔

یاد رہے کہ علی بینک اکائونٹس کیس میں نیب جے آئی ٹی نے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ہمراہ بھٹو ہائوس نو ڈیرو میں چھاپہ مار کے بھٹو ہائوس کا انچارج اور آصف علی زرداری کا قریبی ساتھی عبدالندیم بھٹو گرفتار کر لیا تھا۔

(جاری ہے)

عبدلندیم بھٹو جعلی اکائونٹس سے رقم نکلوا کر بھٹو ہائوس کے اخراجات چلاتا تھا جبکہ اس کا بھائی جبار بھٹو محترمہبے نظیر بھٹو کا ذاتی فوٹو گرافر رہا ہے۔

ندیم بھٹو کے اکائونٹ میں اومنی گروپ او ردیگر گمنام اکائونٹس سے رقم منتقل ہوتی تھی جس سے نوڈیرو ہائوس کے ملازمین کی تنخواہیں و دیگر اخراجات سمیت رہنمائوں کے ہوائی ٹکٹس بھی خریدے جاتے تھے ۔ عبدالندیم بھٹو کابھائی جبار بھٹو محترمہ بے نظیر بھٹو کا ذاتی فوٹو گرافر تھا جسے محترمہ نے پہلی بار وزارت عظمٰی سنبھالنے کے بعد محکمہ اطلاعات سندھ میں نوکری دی جس کے بعد سے پورا خاندان وفادار ذاتی ملازمین کی حیثیت سے نوڈیرو میں بھٹو ہائوس کے معاملات چلا رہا ہے۔

اب گرفتاری کے بعد ندیم بھٹو عدالت میں روپڑا۔ ندیم بھٹو نے عدالت میں کہا کہ میں غریب آدمی ہوں اور میرے پاس وکیل کرنے کے بھی پیسے نہیں ہیں۔ ندیم بھٹو نے روتے ہوائے عدالت میں کہا کہ وہ نہیں جانتا کہ اکاؤنٹ میں اتنے پیسے کہاں سے آئے۔ جب عدالت نے استفسار کیا کہ نوڈیورو والے کہاں گئے ؟ کیا مشکل وقت میں آپ لوگوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے تو ندیم بھٹو نے کہا کہ ’ہم غریب لوگ ہیں، ہمیں کوئی نہیں پوچھتا‘۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments