اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت جنرل مشرف کی حکومت کا تسلسل ہے،سعید غنی

خورشید شاہ کوجس طرح گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف جس طرح پھونڈے الزامات لگائے گئے ہیں وہ قابل مذمت ہے،وزیراطلاعات سندھ

جمعہ ستمبر 19:15

اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت جنرل مشرف کی حکومت کا تسلسل ہے،سعید غنی
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2019ء) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت جنرل مشرف کی حکومت کا تسلسل ہے ۔خورشید شاہ کوجس طرح گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف جس طرح پھونڈے الزامات لگائے گئے ہیں وہ قابل مذمت ہے۔ خود چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس یک طرفہ اقدامات کو اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

یہ سب کچھ عمران خان اپنی بغض اور ذاتی انا کی تسکین کے لئے کررہا ہے اور یہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی ایک سازش ہے۔ صوبے میں ویکسین نہ ہونے کی بات درست نہیں ہے البتہ جتنی درکار ہے اتنی تعداد میں ویکسین صوبہ سندھ نہیں بلکہ پورے ملک میں نہیں ہے۔ کتے کے کاٹنے کا اشیو سیاسی نہیں ہے اور اسے سیاسی بھی نہیں بنانا چاہیے۔

(جاری ہے)

میڈیا کے بڑے چینلوں سے استدعا ہے کہ وہ بڑے اشیوز کو ہائی لائٹ کریں صرف کراچی کے کچرے، مکھیوں، مچھروں اور کتے کے کاٹنے پر اپنی گھنٹوں کی نشریات کی بجائے بڑے بڑے واقعات پر بھی پروگرام کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ خورشید شاہ کوجس طرح گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف جس طرح پھونڈے الزامات لگائے گئے ہیں وہ قابل مذمت ہے۔ انہوںنے کہا کہ خورشید شاہ کے خلاف انکوائری ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس طرح کی انکوائیری میں گرفتاری کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب اپنا کوئی ایک پیمانہ تو مرتب دے کہ کس کو کس اسٹیج پر گرفتار کرنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ کیا نیب انکوائری کے اسٹیج پر گرفتاری کرنا چاہتا ہے تو وہ پی ٹی آئی کے لوگوں کی کیوں انکوائری کے اسٹیج پر گرفتاری نہیں کرتا۔ اگر نیب کو انویسٹی گیشن کے اسٹیج پر گرفتاری کرنی ہے تو بھی کیوں وہ پی ٹی آئی کے لوگوںکو کیوں اس اسٹیج پر گرفتار نہیں کیا جاتا۔

سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کی ریفرنس داخل ہونے کے باوجود بھی گرفتار نہیں کیا جاتا۔ انہوںنے کہا کہ نیب کا پیمانہ فریال تالپور، آصف علی زرداری، شرجیل میمن، خورشید شاہ اور پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے لئے الگ ہے اور علیمہ خان، محمود خان ، عمران خان اور دیگر کے لئے علیحدہ ہے، انہوںنے کہا کہ عمران خان نے خود اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بنی گالہ کی ملکیت بے نامی تھی۔

علیمہ خان کی بے نامی جائداد سب کے سامنے ہے لیکن کسی کو کوئی گرفتاری نہیں ہوتی لیکن خورشید شاہ پر 500 ارب کے الزامات لگا کر انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے جبکہ خورشید شاہ نے خود کہا ہے کہ نیب ثابت کردے اور مجھے صرف ایک فیصد اس کا دے دیں باقی رکھ لیں لیکن ثابت تو کریں۔ سعید غنی نے کہا کہ خورشید شاہ کے ساتھ جن جن کو شامل کیا گیا ہے اس میں سے متعدد ایسے ہیں جن کے اپنے کاروبار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خود چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس یک طرفہ اقدامات کو اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ سب کچھ عمران خان اپنی بغض اور ذاتی انا کی تسکین کے لئے کررہا ہے اور یہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی ایک سازش ہے۔ سندھ میں کتے کے کاٹنے کے واقعات اور ویکسین کی عدم دستیابی کے ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ صوبے میں ویکسین نہ ہونے کی بات درست نہیں ہے البتہ جتنی درکار ہے اتنی تعداد میں ویکسین صوبہ سندھ نہیں بلکہ پورے ملک میں نہیں ہے۔

اس کی وجوہات میں چائنا سے جو ویکسین یہاں منگوائی جاتی تھی اب وہ کمپنی بند ہوگئی ہے جبکہ بھارت سے بھی ویکسین کی عدم دستیابی ہے البتہ اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میں یہ ویکسین بنائی جاتی ہے وہ ہمیں قلیل تعداد میں ملتی ہے اور باقی کچھ ہم اوپن مارکیٹ میں مہنگے داموں بھی اس ویکسین کو خرید رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ہمیں درکار ویکسین پوری تعداد میں دستیاب نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اشیو سیاسی نہیں ہے اور اسے سیاسی بھی نہیں بنانا چاہیے۔ کتے کاٹنے کے واقعات پورے ملک میں ہوتے ہیں اور کتے بھی پورے ملک میں ہیں۔ ایسا نہیں کہ کتے صرف صوبہ سندھ میں ہیں باقی ملک میں اور کچھ جانور ہیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ ایک قومی مسئلہ ہے اور وبا ہے۔ اس کو ہمیں سنجیدہ لینا چاہیے۔ انہوںنے کہا کہ افسوس ہے کہ کچھ اپوزیشن کے رہنماء اس طرح کے قومی مسائل کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے اسے پیپلز پارٹی سے چوڑ دیتے ہیں۔

انہوںنے کہا کہ کراچی میں مکھی اور مچھڑوں کو شور کیا گیا اور آج پنڈی میں سب سے زیادہ ڈینگی کے مریض ریکارڈ ہورہے ہیں۔یہ میڈیا کو کہی شاید نظر نہیں آرہا۔ انہوںنے کہا کہ گذشتہ روز بلدیہ ٹائون فیکٹری کے مالکان نے ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا جس سانحہ میں 250 سے زائد انسانوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ انہوںنے کہا کہ میں انتظار کررہا تھا کہ کوئی چینل اس پر دو گھنٹے کی خصوصی نشریات چلاتا اور اس سانحہ میں ملوث افراد اور اس ویڈیو بیان پر تبصرہ کرے۔

250 افرادکو زندہ جلائے جانے پر قوم کو بتاتے کہ کیا سانحہ کس دہشتگرد نے کیا۔ انہوںنے کہا کہ میری میڈیا کے بڑے چینلوں سے استدعا ہے کہ وہ بڑے اشیوز کو ہائی لائٹ کریں صرف کراچی کے کچرے، مکھیوں، مچھروں اور کتے کے کاٹنے پر اپنی گھنٹوں کی نشریات کی بجائے بڑے بڑے واقعات پر بھی پروگرام کریں۔ انہوںنے کہا کہ میڈیا سندھ حکومت پر ضرور تنقید کریںلیکن وہ ملکی بڑے اشیوز پر بھی اپنی آواز ضرور اٹھائے۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے کچرہ اٹھا نے میں مکھیوں اور مچھروں کے اسپرے کرنے میں اور کتوں کو پکڑنے میں ضرور کوتاہی کی ہوگی لیکن اس بنیادہمیں جو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، انہوںنے انسانوں کو مارا ہے۔ زندہ جلایا ہے، طاہر پلازہ کا واقعہ بھی ہمیں نہیں بھولنا چاہیے، 12 مئی کا واقعہ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے، بلدیہ ٹائون فیکٹری کا سانحہ ہمیں کسی صورت نہیں بھولنا چاہئے۔

جب تنقید ہم پر کی جاتی ہے اور جو لوگ ہم پر الزامات لگا رہی ہیں کہ ہم نے کراچی کو تباہ کردیا ہے تو ان کا اصل چہرہ اور ان کی کاوشوں کو جو کارکردگی ان کی رہی ہے کراچی کا امن تباہ کرنے میں ان کا بھی تھوڑا ذکر ساتھ ساتھ کرلیا جائے تو بہتر ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پہلے کتوں کو زہر دے کر مار دیا جاتا تھا، جس کے بعد کئی تنظمیوں کی جانب سے اس اقدام پر احتجاج کیا گیا اور ہم نے اس سلسلے کو بند کیا۔

انہوںنے کہا کہ کتوں کو پکڑ کر شہر سے باہر کرنے کی اصل ذمہ داری بلدیاتی اداروں کی ہے اور اگر اس سلسلے میں انہیں ہماری کسی مدد کی ضرورت ہوئی تو ضرور کریں گے اور اس حوالے سے ہم نے تمام ڈسٹرکٹ، میونسپل کمیٹیوں اور کونسل اور یونین کونسل کو ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔ سابق ڈی جی پارک کی گرفتاری اور اس کے گھر سے اربوں کی مالیت کی گاڑیاں اور دیگر کی برآمدگی کے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ اس سلسلے میں میں زیادہ کچھ نہیں جانتا کہ وہ 8 سال قبل کے ایم سی میں ملازم تھے لیکن میں نیب کی جانب سے جس طرح اس کے گھر اور گاڑیوں سمیت دیگر کی ویڈیو بنا کر یہ تاثر دینا چاہا ہے کہ یہ سب کرپشن کا ہے اس سے اس لیئے متفق نہیں ہوں کہ اس سلسلے میں نیب کا ماضی کا ریکارڈ کبھی اچھا نہیں رہا ہے۔

ابھی انکوائری شروع نہیں ہوئی ہے اور اس طرح کے الزامات لگا کر کردار سازی کی بجائے نیب پہلے یہ انکوائری کرتا کہ واقعی یہ سب کرپشن کا ہے یا نہیں یہ مناسب عمل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک میری اطلاع ہے کہ قائمخانی کے سات بھائی ہیں اور اس میں کچھ کاروباری بھی ہیں اور کچھ زمیندار بھی ہیں اور سب ایک ساتھ رہتے ہیں اب یہ سب کرپشن کا ظاہر کرنا قبل ازوقت ہے۔

انہوںنے کہا کہ نیب نے ڈاکٹر عاصم، شرجیل میمن سمیت متعدد پر اربوں کی کرپشن کا الزام لگا کر ان کی کردار سازی کی لیکن آج تک کچھ ثابت نہیں کرسکا اس لئے ہمیں تحقیقات کے بعد ہی کچھ کہنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم یہ بات بارہا کہہ چکیں ہیں کہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت جنرل مشرف کی حکومت کا تسلسل ہے کیونکہ نصف سے زائد کابینہ مشرف کی کابینہ ہی ہے، ان کے وکیل اور سرکاری افسران وہی ہیں جو مشرف کی ایماء پر کام کررہے تھے، جس کے ذریعے وہ سیاسی بدمعاشیاں کررہے تھے اور دبئی میں ان سب کی ملاقاتیں بھی اسی کا تسلسل ہے۔

اس وقت میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے وہ شاید آمرانہ ادوار میں بھی نہ ہوتا ہو وہ سب کچھ آج ہورہا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ محکمہ اطلاعات میں اشتہارات کے حوالے سے وہ کام کررہے ہیں اور وہاں پر ڈمی اخبارات کو اشتہارات دینے سمیت تمام معاملات کو دیکھا جارہا ہے اور اس حوالے سے صاف و شفاف پالیسی بھی مرتب کی جارہی ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments