سپریم کورٹ نے طلبا یونین کو ریگیولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کی ہدایت کی ہے ، وزیراعلیٰ سندھ

ہم نے کام کا آغاز کردیا ہے اور جلد اس حوالے سے پیش رفت ہوجائے گی، 15 ویں عالمی کتب میلہ کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو اسمبلی سیشن چل رہا ہے اور قانون سازی بھی ہورہی ہے اور سب کو بات کرنے کا موقع بھی مل رہا ہے

جمعرات دسمبر 23:55

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 دسمبر2019ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے طلبا یونین کو ریگیولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کی ہدایت کی ہے جس پر ہم نے کام کا آغاز کردیا ہے اور جلد اس حوالے سے پیش رفت ہوجائے گی۔ انہوں نے یہ بات آج 15 ویں عالمی کتب میلہ ایکسپو سینٹر کے افتتاح کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی سیشن چل رہا ہے اور قانون سازی بھی ہورہی ہے اور سب کو بات کرنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی پہلی اسمبلی تھی جس نے پاکستان کی قرارداد منظور کی اور سندھ میں رہنے والے ہی پاکستان کو آگے بڑھائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کا قلمدان ان کے پاس ہے،اساتذہ کے تبادلے سیشن کے ساتھ ہونگے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میں نے سیکریٹری تعلیم کو اساتذہ کی تقرری پر پابندی کے لیے کہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی کافی تعداد میں آسامیاں خالی ہیں جنہیں میرٹ پر بھرتی کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کررہے ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ سندھ میں ٹڈی دل نے جو فصلوں پر حملہ کیاہے اس کے سدباب کے لیے ہم نے اقدامات اٹھائے ہیں اور جون ۔

جولائی میں نے علاقوں کا دورہ کیاتھا۔ متاثرہ علاقوں میں فصلوں کو بچانے کے لیے فضائی اسپرے کرانا وفاقی حکومت کا کام ہے مگر ان کے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے ہیلی کاپٹرز خراب ہیں جس کی مرمت اور فیول اور زرعی ادویات کے لیے سندھ حکومت نے 10 ملین روپے فراہم کئے ہیں تاکہ فوری طورپر فصلوں پر فضائی اسپرے کرکیکاشتکاروں کو مزید نقصان سے بچایا جاسکے۔

وزیراعلی سندھ نے دعا منگی کے اغوا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ دعا منگی کے اغوا کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جارہاہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کی بازیابی کے لیے ہر زاویے سے تحقیقات کررہے ہیں ۔قبل ازیں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے 15 ویں کتب میلہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دنوں پہلے مجھے خواجہ اظہار نے پیغام دیا کہ کتب میلہ میں مہمان خصوصی بنیں ۔

اظہار صاحب کم فرمائشیں کرتے ہیں لہذا میں ان کی بات ٹال نہیں سکتا ۔ پچھلے کتب میلہ میں خورشید شاہ اپنے ساتھ قمرزمان قائرہ کو لائے تھے۔قائرہ صاحب نے کہا ایسا کتب میلہ انہوں نے کبھی نہیں دیکھا ۔آج اس کتب میلہ میں جوان لڑکے کم نطر آرہے ہیں ، بزرگ زیادہ ہیں ۔آج بھی کتاب کی ہارڈ کاپی کے پڑھنے کا مزہ اور ہے ۔کتابوں کی کلیکشن کا بھی ایک مزہ ہے ۔

میں ایسے بہت سارے لوگوں کو جانتا ہوں جو اپنی لائبریریوں کی بچوں کی طرح حفاظت کرتے ہیں ۔ میں جب اسٹوڈنٹ تھا تو ہمیں لائبریری سے 2 کتابیں ملتی تھیں۔جب دیگر لینے جاتے تھے تو کتابیں واپس مانگ کر ڈگری دیتے تھے۔میں جب امریکا پڑھنے گیا وہاں لائبریرین سے پوچھا کہ کتنی کتابیں لے جاسکتا ہوں۔لائبریرین نے کہا جتنا اٹھا سکتے ہو۔میں نے 50 سے 60 کتابیں لیں اور جب پڑھنا ختم کیا تو کتابیں واپس کیں لیکن انہوں نے مانگی نہیں ۔

میں نے بیرون ملک لائبریری میں نوکری بھی کی تھی اور وہاں وہ کتابیں پاکستان کے بارے میں دیکھیں جو پاکستان میں بھی دستیاب نہیں ۔میں نے مردم شماری کے حوالے سے کتابیں دیکھیں اور ان کی فوٹو کاپی کر کے لے آیا۔مجھے کتابوں کا شوق ہمیشہ سے رہا ہے۔ میں آپ کے ساتھ کتابیں جمع کرنے اور ان کے پڑھنے والوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون اور مدد کروں گا۔

میں پاکستان پبلشر اور بک سیلرز ایسوسی ایشن فائونڈیشن کو کامیابی کے ساتھ عالمی کتب میلے کے انعقاد پر مبارکباد دیتا ہوں ۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے بھان سعید آباد کے نوجوان میرے پاس آئے اور لائبریری کے قیام کے لیے درخواسست کی۔وہ لائبریری قائم ہوگئی، اب وہ نوجوان کتابوں کے لیے بھاگ دوڑ کرتے نظر آرہے ہیں۔میں لائبریریوں کی پروموشن کے لیے اپنا کردار اداکرتا رہونگا۔

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے آج 15 ویں عالمی کتب میلہ کا ایکسپو سینٹر میں افتتاح کیا۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ صوبائی مشیر قانون مرتضی وہاب کے ہمراہ ایکسپو سینٹر پہنچے تو ان کا پاکستان پبلشر اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد ، کمشنر کراچی اور دیگر نے ان کا استقبال کیا ۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments