سندھ میں کتب بینی کے فروغ کیلئے تعاون کو تیار ہیں ،معاشرے میں کتابوں سے محبت کو واپس لانا ہو گا،وزیراعلیٰ سندھ

مخیر حضرات کتابیں لائبریری کو عطیہ کریں،15ویں بک فیئر کی افتتاحی تقریب سے خطاب جس معاشرے میں سوچ پر قدغن لگ جائے وہاں کتابیں کم پڑھی جاتی ہیں،فیصل سبزواری

جمعرات دسمبر 23:56

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 دسمبر2019ء) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت صوبے میں کتب بینی کے فروغ کیلئے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے ،معاشرے میں کتابوں سے محبت کو واپس لانا ہو گا ،محکمہ ثقافت کے ذریعے صوبے بھر میں لائبریریوں کا نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں سندھ میں رہنے والے سب مل کر پاکستان کو آگے لیکر جائیں گے ۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو کراچی ایکسپو سینٹر میں پندرہویں کراچی انٹر نیشنل بک فیئر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر متحد قومی موومنٹ کے رہنما فیصل سبزواری ،پاکستان پبلشرز اینڈبک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد نے بھی خطاب کیا جبکہ کنوینر کے آئی بی ایف وقار متین نے تقریب کے شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔

(جاری ہے)

افتتاحی تقریب میں کمشنر کراچی افتخار شلوانی ،صوبائی وزیر قانون مرتضی وہاب ، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنمائوں عامر خان ،خواجہ اظہار الحسن ،میئر حیدرآباد طیب حسین ،سینئر صحافی قاضی اسد عابد ،عبدالقادر خانزادہ ،سینئر صحافی محمود شام ، چیئرمین ضلع شرقی معید انور، مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی ، نامور ادیبوں اور شاعروں سمیت مختلف ممالک کے سفارت کاروں، علمی ،سماجی ، ادبی اور صحافتی شخصیات نے بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی سند ھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو باب السلام ہونے پر فخر ہے ،سندھ وہ واحدصوبہ ہے جس کی اسمبلی کو قیام پاکستان کی قرار داد منظور کرنے کا اعزاز حاصل ہے ۔انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان سندھ میں پیدا ہوئے اور سندھ کے لوگ مل کر اس ملک کو آگے لیکر جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہو تا ہے کہ نوجوان نسل کتابوں سے دور ہو گئی ہے ہم معاشرے میں کتابوں سے محبت کو واپس لانا چاہتے ہیں ،حکومت سندھ کتب بینی کا شوق بڑھانے کے لئے ہر سطح پر تعاون کرنے کا تیار ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مخیر حضرات کتابیں خرید کر لائبریری کو عطیہ کریں تو اس سے بھی کتب بینی کو فروغ حاصل ہو گا ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری نے کہا کہ دور جدید میں کتب میلہ یقینا لوگوں کو حیران کر رہا ہوں گا مگر یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ جن ممالک نے جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا وہاں آج بھی کئی منزلہ کتب خانے موجود ہیں آج بھی ترقی یافتہ ممالک نے لاکھوں کتابیں پڑھی جا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں سوچ پر قدغن لگ جائے وہاں کتابیں کم پڑھی جاتی ہیںہمیں کتابوں کے لفظ کی حرمت کو سمجھنا ہو گا ہماری خواہش ہے کہ پاکستا ن میں ایسا معاشرہ قائم ہو جائے جہاں نعرہ لگانے پر دہشت گردی کے مقدمات نہ بنیں ۔

پاکستان پبلشرز اینڈبک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد نے کہا کہ اس نمائش کا آغاز صرف ایک ہال سے ہوا تھا آج یہ تین ہالز میں منتقل ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ اسکولوں نے شہر میں کتاب کلچر کو فروغ دیا ہے آج لائبریری ویران نظر آ رہی ہے کیونکہ فنڈز کی کمی ہے وزیر اعلی سندھ صوبے بھر میں لائبریریوں کو فعال کریں ۔انہوں نے کہا کہ ہم معاشرے کے ہر طبقے کو کتابوں سے جوڑنے کی جہدجہد کرتے رہیں گے آج پہلے دن کا رش بتا رہا ہے کہ یہاں کتب بینی کا شوق رکھنے والوں زندہ ہیں ۔

علاوہ ازیں پاکستان پبلشرز اینڈبک سیلرز ایسوسی ایشن کے تحت 5روزہ پندرھواں کراچی بین الاقوامی کتب میلہ 2019ء کا باقائدہ آغاز ایکسپو سینٹر کراچی میں جمعرات کوہوگیا۔افتتاح سے قبل ہی اسکولز و کالجز کے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے خود ہی کتب میلے کا افتتاح کردیا۔ نمائش میں آئے ہوئے ادیب ، شاعر، سماجی اور سیاسی شخصیات نے کتب میلہ کو کراچی شہر کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی نمائش کراچی کے امیج کو بہتر کرنے میں بہت معاون ثابت ہوگا۔

کتب میلہ میں متعدد اسکولوں کے بچوں نے اپنی پسند کی کتابیں انتہائی رعایتی نرخ میں خرید کر خوشی کا اظہار کیا ۔کتب میلے میں خواتین کی دلچسپی بھی قابلِ دید ہے۔اس میلہ میں اردو، سندھی ، فارسی، پنجابی ، گجراتی سمیت ملک بھر میں بولی جانے والی زبانوں اور انگریزی زبان کی کتابوں اور رسائل میں گہری دلچسپی دیکھنے میں آئی۔کتب میلے میں سب سے زیادہ درسی کتب اسٹالوں پر طلبہ و طالبات اور والدین کا رش تھا ۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments