سندھ کے اندر روزانہ سینکڑوں انسانی حقوق کی خراب ورزیاں ہورہی ہیں،غیر فعال سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کبھی نوٹس نہیں لیتا،حلیم عادل شیخ

بدھ ستمبر 19:35

سندھ کے اندر روزانہ سینکڑوں انسانی حقوق کی خراب ورزیاں ہورہی ہیں،غیر ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 ستمبر2020ء) پی ٹی آئی مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کی سندھ ہیومن رائٹس کمیشن میں پیش ہوئے سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے 2019 گھوٹکی الیکشن کے دوران حلیم عادل شیخ کے کو نوٹس بھیجا تھا سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے حلیم عادل شیخ پر انسانی حقوق کی خلافی ورزی کے الزام پر سوموٹو لیا تھا۔جس پر پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ اپنے وکلا کی ٹیم ایڈووکیٹ شاہد سومرو و دیگر کی ساتھ پیش ہوئے اور اپنا جواب جمع کروایا۔

حلیم عادل شیخ نے سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے اندر روزانہ سینکڑوں انسانی حقوق کی خراب ورزیاں ہورہی ہیں لیکن یہ غیر فعال کمیشن کبھی نوٹس نہیں لیتا۔ سندھ حکومت نے اپنی پارٹی کے حقوق کے لئے یہ کمیشن بنایا ہے۔

(جاری ہے)

2011 سے کروڑوں روپے سالانہ بجٹ پر سندھ ہیومن رائٹس کمیشن بنایا ہوا ہے۔ قانون کے مطابق ایک چیئرمین کی تین سال کی مدت ہوتی ہے ان کی ایک جسٹس صاحبہ کی تیسری مدت چل رہی ہے۔

پچھلے سال گھوٹکی الیکشن کو دھاندھلی کے ذریعے جیتنے کے لئے سندھ حکومت نے مختلف طریقے استعمال کئے تھے۔جب میں الیکشن میں گیا تو وہاں ایک دن میں مجھے پانچ نوٹس دیئے گئے۔23 جولائی کو ایف آئی آر، سریا کا نوٹس سمیت پانچ نوٹس دیئے گئے۔ لیکن سندھ بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں کبھی سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے ایکشن نہیں لیا۔

جب شہباز شریف نے کہا زرداری کو کھمبے پر لٹکائوں، گھسیٹوں گا وہ بات ان کو بری نہیں لگی،ان پر تو آپس میں جپھیاں لگائی جارہی ہیں۔ اس کمیشن میں پیپلزپارٹی کے لوگ شامل ہیں سیاسی لوگوں کو دبانا کے لئے کمیشن بنایا گیا حلیم عادل شیخ کی آواز بند کرانے کے لئے نوٹس دیئے جاتے ہیں حملے کرائے جاتے ہیں لیکن اللہ کے کرم سے ہر محاظ پر سرخرو ہوتا ہوں۔

ھر ماہ مجھے نوٹس دیئے جارہے تھے آج میں پہنچا ہوں۔ ان الزامات سے میرا کوئی واسطہ نہیں ہے میں بری ہوچکا ہوں۔ سندھ کے پ پ کے ایک ایم پی اے نے کہا قمبر والوں اپنے دماغ ٹھیک کر لو ووٹ پ پ کا ہے لیکن اس پر کوئی ہیومن رائٹس نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ جب معزز اسپیکر صاحب نے کہا ووٹ پر پیشاب کرتے ہیں تب ہیومن رائٹس نے کیوں سو موٹو ایکشن نہیں لیا۔

ایم پی اے چانڈیو نے کہا ٹکے ٹکے کے ووٹ کو حیثیت نہیں دیتے اس پر کچھ نہیں کیا گیا۔ 1700 ایڈز کے مریض حیدرآباد میں ہیں رتو دیرو میں ایڈز لگائی گئی سندھ حکومت کے خلاف کبھی سو موٹو ایکشن نہیں لیا گیا۔ ایک لاکھ چالیس ہزار لوگوں کو کتوں سے کٹوایا گیا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس پر بھی ہیومن رائٹس کمیشن نے کچھ نہیں کیا۔ سندھ میں لاشیں اور مریض گدھ گاڑیوں پر لے جاتے ہیں وہاں سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے نوٹس نہیں لیا۔

شکارپور کے کھوکھر سے لیکر جھرک کے بچے بھی یاد ہونگے جن کی لاشیں گدھے گاڑی پر لے جائیں گئیں۔ تھر میں ہزاروں بچے مارے گئے کچھ ہوا کچھ نہیں ہوا۔ سندھ میں عوام کو ایمبولنس تک نہیں ملتی تب سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کیوں نہیں نوٹس لیتا۔ انسانی حقوق کے مسلسل سندھ میں خلاف ورزیاں ہورہی ہے کسی نے کچھ نہیں کیا۔ سیلاب میں ہزاروں خاندان سڑکوں پر ہیں لیکن اس غیر فعال سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے کچھ نہیں کرنا۔

جیلوں میں ظلم ہورہا ہے منشیات بک رہی ہے کیا ہیومن رائٹس کمیشن نے کچھ کیا۔ سندھ میں بچے بچیوں سے زیادتیاں ہورہی ہیں ہاریوں کو خانگی جیلوں میں بند کیا جاتا ہے تب یہ کمیشن کہاں چلا جاتا ہے۔ فیکٹریوں پر دو دو ہزار پر بچوں اور بچیوں سے زبردستی مزدوری کروائی جاتی ہے کبھی کسی نے ایکشن لیا۔ ہمارے سندھ کے سرکاری ملازمین احتجاج کرتے ہیں ان کو ڈنڈے مارے جاتے ہیں عورتوں کے سروں سے ڈوپتے اتارے جاتے ہیں ان پر بھی ہیومن رائٹس کمیشن کبھی جاگا یونیورسٹیوں میں بچیوں کے ساتھ زیادتیاں کی جاتی ہیں کلفٹن پر بچی سے زیادتی ہوتی ہے تب بھی سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے کچھ کیوں نہیں کیا ۔

سندھ حکومت اپنے تمام اداروں کو مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کے لئے بنایا ہوا ہے۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا بلاول صاحب آپ نے انسانی حقوق کی کمیشن بھی سیاسی مخالفین کے استعمال کے لئے بنا دی ہے۔ بلاول صاحب آپ سندھ کے حقوق کے لئے تحریک چلائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔آپ لوگوں کا جب احتساب ہوتا ہے تب تحریکیں چلانا کیوں یاد آتا ہی ندھ میں گندا پانی ملنے پر بلاول تحریک چلائیں ہم ساتھ ہیں۔

قدم بڑھاہو بلاول تحریک چلائو ایمبولنس کی جگہ گدھا گاڑی ملتی ہے ان کے خلاف تحریک چلائیں۔ ہزاروں لوگ سڑکوں پر بے یارو مددگار ہیں امداد نہیں دی جارہی تحریک چلائیں بلاول ہم آپ کے ساتھ۔ بلاول صاحب سندھ سے کرپشن مٹائوں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں ووٹ کو عزت دو جب حکومت میں ہوتی ہیں تو کہتے ہیں نوٹ کو عزت دو۔ جب کرپٹ حکمران پکڑے گئیے کہتے ہیں ووٹ کو عزت دو۔

ای پی سی میں پرچیاں بانٹی گئی ہر کسی کی الگ پرچی بنائی جاتی ہے۔ کس طرح کی ای پی سی تھی جس میں سارے چور جمع تھے۔ جنہوں نے نوٹ کو عزت دی وہ لوگ آج ووٹ کی بات کر کے عوام کو بے وقوف بنانا چاہتے ہیں۔ اس موقعہ پر حلیم عادل شیخ کے وکیل ایڈووکیٹ شاہد سومرو نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کسی بھی صوبے کے جسٹس بھی سوموٹو ایکشن نہیں لے سکتے۔ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہم ان کے سوموٹو ایکشن کو چیلینج کریں گے عدالت جائیں گے۔#

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments