وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت بارش متاثرین کو ریلیف دینے سے متعلق اجلاس

اجلاس میں تمام متاثرہ علاقوں کے ڈپٹی کمشنرز نے وزیراعلیٰ سندھ کو تفصیلی آگاہ کیا

جمعرات ستمبر 21:42

وزیراعلیٰ سندھ  کی زیر صدارت بارش متاثرین کو ریلیف دینے سے متعلق اجلاس
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 ستمبر2020ء) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت بارش متاثرین کیلئے ریلیف سے متعلق وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء مخدوم محبوب، سید ناصر شاہ، وزیر بحالی فیاض ڈیرو، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، رکن صوبائی اسمبلی شرجیل میمن، چیف سیکریٹری سید ممتاز شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف روینیو قاضی شاہد پرویز، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی اور سیکریٹری آبپاشی رفیق برڑو، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ نے شرکت کی۔

اجلاس میں تمام متاثرہ علاقوں کے ڈپٹی کمشنرز نے وزیراعلیٰ سندھ کو تفصیلی آگاہ کیا۔ضلع عمرکوٹ سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ دیہی ا?بادی کی697000 افراد بارشوں میں متاثر ہوئے ،80 فیصد فصلیں تباہ ہوچکی ،18352 خاندان متاثر ہوئے جن کو سڑکوں کے اطراف خیمہ بستی اور اسکولز میں ٹھرایا گیا ہے جبکہ4800 افراد روحل واہ پر بیٹھے ہیں۔

(جاری ہے)

انھوں نے بتایا کہ پانی کی نکاسی کے بعد اب 11285 خاندان ابھی بھی خیموں میں بیٹھے ہیں،بارشوں کا پانی 166521 ایکڑ پر جمع تھا جسکی نکاسی کے بعد اب صرف 29885 ایکڑ رہ گیا ہے۔ مزید بتایا کہ 12699 خیمے دیئے ہیں، ابھی بھی 3000 کی ضرورت ہیاور24700 راشن بیگز تقسیم ہوچکے ہیں ابھی بھی 5000 راشن بیگز کی ضرورت ہے۔25 ہزار مچھر دانیاں تقسیم ہوچکی ابھی بھی 5000 مزید ضرورت ہے اور2000 جانوروں کیلئے مچھر دانیاں تقسیم ہوچکیں ابھی بھی 13000 کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بقایا ضروری سامان کے انتظام کیلئے پی ڈی ایم اے کو ہدایات دے دی۔ ڈی سی نے بتایا کہ علائقے میں یو اے ای نے 1000، یو این 2033، این جی اوز 3050 اور پی پی پی 2000 راشن بیگز تقسیم کرچکے ہیں۔سانگھڑ کے ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کو بتایا کہ 176271 افراد یعنی 35225 خاندان متاثر ہوئے ہیں جبکہ28050 خاندان شناختی کارڈز کے ساتھ رجسٹر ہوچکے ہیں۔ سانگھڑ میں ابھی بھی 31933 ایکڑ پر پانی کھڑا ہے جسکو پمپنگ کے ذریعے نکال رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے پی ڈی ایم اے اور محکمہ ا?بپاشی کو نکاسی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی۔ ڈی سی نے مزید بتایا کہ سانگھڑ میں 30039 گھر متاثر ہوئے ،ضلع میں 17549 خیمے، 26510 راشن بیگز، 21400 مچھر دانی اور 700 جانوروں کیلئے مچھر دانیاں تقسیم ہوچکے،ابھی بھی 2250 خیمے، 5000 راشن بیگز، 5000 مچھر دانی اور 700 جانوروں کی مچھردانیوں کی ضرورت ہے جبکہ سیلانی اور ایدھی نے 100 خیمے، پی پی پی نے 1000 راشن بیگز تقسیم کیے ہیں اورسانگھڑ میں ابھی بھی 2250 خیمے، 5000 راشن بیگز، 5000 مچھر دانی اور 5000 جانوروں کیلیے مچھر دانیوں کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ضرورت کے سامان کے انتظام کیلیے ہدایات دے دی۔ضلع میرپورخاص سے متعلق ڈی سی نے اجلاس کو بتایا کہ ضلع میں 155876 آبادی ہے جس میں سے 614260 آبادی متاثر ہوئی اور103167 شناختی کارڈ کے ساتھ رجسٹر کر چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ199733ایکڑ پر پانی جمع ہوگیا ہے جسکی نکاسی کے بعد اب 33134 ایکڑ پر ابھی بھی پانی ہے جو پمپنگ کے ذریعے نکلے گا جبکہ29820 گھر متاثر ہوئے ہیں اور149531 ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں جس میں شگر کین، کپاس، سبزیاں اور فوڈر شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ 18609 خیمے، 38704 راشن بیگز، 51589 مچھر دانیاں تقسیم ہوچکی ہیں اور4000 خیمے، 10 ہزار راشن بیگز، 10 ہزار مچھر دانیاں اور 15 ہزار جانوروں کیلیے مچھر دانیوں کی ضرورت ہے جبکہ 4170 جانور جاں بحق چکے ہیں۔ضلع بدین سے متعلق ڈی سی نے بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کو بتایا کہ 50 ہزار خاندان یعنی 3 لاکھ کی آبادی متاثر ہوئی ہے جس میں سے 34 ہزار خاندان شناختی کارڈ نمبر کے ساتھ رجسٹر کئے ہیں جبکہ ایل بی او ڈی، 175000 ایکڑ فصل تباہ ہوگئی ہے اور50 ایکڑ پر ابھی بھی پانی کھڑا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 15000 گھر متاثر ہوئے ہیں۔ ڈی سی نے بتایا کہ 13470 خیمے، 37100 راشن بیگز، 20600 مچھر دانیاں اور 2000 جانوروں کی مچھردانی تقسیم ہوچکے ہیں اور1500 خیمے، 12900 راشن بیگز، 10 ہزار مچھر دانیاں اور 18 ہزار جانوروں کیلئے مچھردانی کی ضرورت ہے۔ضلع تھرپارکر سے متعلق ڈی سی نے بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کو بتایا کہ ضلع تھرپاکر میں 1.8 ملین آبادی ہے اور سب سے زیادہ متاثرہ آبادی کلوئی تعلقہ میں ہوئی ہے جبکہ 18793 خاندان مقامی آبادی متاثر ہوئے ہے جس میں سے 27851 خاندان رجسٹر کئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ نئوکوٹ زیادہ تر ڈوب گیا ہے اور 13586 ایکڑ فصل جس میں چلی، باجرہ، کپاس اور فوڈر ہے تباہ ہوئی ہے جبکہ 13514 گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 8557 خیمے، 27152 راشن بیگز، 10 ہزار مچھردانیاں تقسیم ہوچکی ہیں اور440 خیمے، 850 راشن بیگز، 4900 مچھردانیاں اور 13500 جانوروں کیلئے مچھردانیوں کی ضرورت ہی

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments