پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی ہنڈرانڈکس میں585پوائنٹس کا اضافہ

مارکیٹ میں تیزی کی وجہ سیمنٹ اور تعمیرات کے شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی قرار

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر اکتوبر 19:29

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی ہنڈرانڈکس میں585پوائنٹس کا اضافہ
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 اکتوبر ۔2020ء) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز مثبت رجحان رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس‘ 585 پوائنٹس کے اضافے کے بعد 41 ہزار 850 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا. بی ایم اے کیپیٹل کے ریسرچ سربراہ فیضان احمد نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں تیزی کی بنیادی وجہ سیمنٹ اور تعمیرات کے شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی تھی‘انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کے جنوبی مینوفیکچررز کی جانب سے فی بیگ قیمت میں 10 روپے اضافہ کرنے کے فیصلے اور چند شہروں میں بحران کی خبروں کی وجہ سے سیمنٹ کے شعبے کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا.

(جاری ہے)

دوسری جانب شعبہ سیمنٹ کی بڑی کمپنی لکی سیمنٹ کا سہ ماہی منافع امید سے زیادہ ہونے کے اعلان کے بعد تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث حصص مارکیٹ میں پورے شعبے میں تیزی دیکھی گئی اسی طرح آٹوز اور تیل و گیس مارکیٹنگ کمپنیوں کے شعبوں میں بھی اکتوبر میں فروخت میں اضافے کی امید کے باعث تیزی دیکھی گئی. فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے اعتراف کے بعد سرمایہ کاروں کی طرف سے مارکیٹ میں دلچسپی دکھائی دی.

اے کے ڈی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار عمر فاروق کا کہنا تھا کہ چونکہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی برقرار رکھنے جانے کی امید کی جارہی تھی اس لیے پاکستان کے اقدامات کے باقاعدہ اعتراف اور بلیک لسٹ میں جانے کی امیدیں تقریباً ختم ہونے کے بعد مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی. وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے اسٹاک مارکیٹ میں تیزی اور دیگر عوام کے حوالے سے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، کرنسی مارکیٹ میں روپے کی قدر میں اضافہ، سمینٹ، آٹوموبائلز، تعمیرات، فرٹیلائزر اور ٹیکسٹائل سمیت صنعتی شعبوں میں منافع میں اضافہ ملک میں مثبت معاشی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہیں‘انہوں نے کہا کہ ٹیکس ریونیو میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس میں ہے.


کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments