وزیراعظم اور ان کے وزرا کو کراچی کی ترقی سے کوئی سروکار نہیں ،سعید غنی

ایک خفیہ خط وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے وزیر اعظم کو لکھا گیا اس کو نہ صرف لیک کیا گیا بلکہ اسے میڈیا میں دیا گیا،وزیر تعلیم سندھ

ہفتہ جنوری 16:45

وزیراعظم اور ان کے وزرا کو کراچی کی ترقی سے کوئی سروکار نہیں ،سعید غنی
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جنوری2021ء) وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم کراچی سمیت سندھ بھر کی ترقی کے خواہ ہیں تاہم ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آئین سے نابلد وزیراعظم اور ان کے وزراء اس میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے کور کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر کی جانب سے کی جانے والی بدتمیزی پر نہ انہیں اس وقت کوئی جواب دیا اور نہ ہی یہ بات ہماری جانب سے کہی گئی تاہم ایک خفیہ خط وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے وزیر اعظم کو لکھا گیا اس کو نہ صرف لیک کیا گیا بلکہ اسے میڈیا میں دیا گیا۔

پیپلز پارٹی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے لوگ جوق در جوق اس میں شمولیت اختیار کررہے ہیں اور آج بھی متحدہ قومی موومنٹ کے دو بار رکن سندھ اسمبلی منتخب ہونے والے سلیم بندھانی اور ان کے ساتھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوںنے ہفتہ کے روز اپنے کیمپ آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن سندھ اسمبلی سلیم بندھانی، علی راشد، پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری و سابق صوبائی وزیر جاوید ناگوری، پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے کراچی کے مختلف علاقوں کے سابقہ ایم کیو ایم کے جوائنٹ ، یونٹ و سیکٹر انچارجز و ممبران محمد کاشف، نوید الرحمان، زاہد پاشا، حیدر علی، فیصل سمیت دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

صوبائی وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ میں آج سلیم بندھانی سمیت دیگر شامل ہونے والے تمام کو نہ صرف خوش آمدید کہتا ہوں بلکہ امید رکھتا ہوں کہ ان کی شمولیت سے پیپلز پارٹی کراچی سمیت سندھ بھر کے شہری علاقوں میں مزید مضبوط ہوگی۔ اس موقع پر سلیم بندھانی نے کہا کہ آج ہماری پیپلز پارٹی میں شمولیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ماضی میں صوبہ سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ جو ناانصافیاں اور اختیارات کا رونا روک یہاں کے عوام کے ساتھ ناانصافی کی گئی اس کا ہم پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ازالہ کرسکیں۔

انہوںنے کہا کہ ہمیں نوجوان قیادت اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر مکمل یقین ہے اور انشاء اللہ کراچی سمیت سندھ بھر کے شہری علاقوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور لڑائو اور سیاست کرو کی پالیسی کا اب خاتمہ ہوگا۔ علی راشد نے کہا کہ اس وقت بھی ایم کیو ایم سمیت مختلف ہم خیال پارٹیوں سے رابطے ہورہے ہیں اور انشاء اللہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی سندھ کے تمام شہری علاقوں میں اکثریت سامنے لائے گی۔

اس موقع پر میڈیا کے سوالات کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ کورکمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر علی زیدی کی جانب سے جس بدتمیزی کا مظاہرہ کیا گیا اس کے تمام گواہ ہیں۔ انہوںنے کہا کہ میں خود اس اجلاس میں موجود تھا اور وہاں کوئی گالم گلوچ نہیں ہوئی البتہ علی زیدی کا جو رویہ اور انداز وزیر اعلیٰ سندھ کے لئے تھا وہ انتہاہی نامناسب تھا۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے اجلاس یا اس کے بعد بھی ان کی بدتمیزی کا کوئی جواب نہیں دیا البتہ انہوںنے اسد عمر جو کہ اس اجلاس میں موجود تھے ان سے ناصرف شکایت کی بلکہ ان سے کہا کہ میں وزیر اعظم کو بھی خط لکھوں گا۔

انہوںنے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ یا کسی بھی کابینہ کے وزیر کی جانب سے 16 جنوری کے بعد آج تک اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی بلکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے جو خفیہ خط وزیر اعظم کو اس حوالے لکھا تھا اس کا بھی ہمیں کوئی علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خفیہ خط تھا اور یہ وزیر اعظم کو لکھا گیا تھا، جس کو ایک وزیر نے نہ صرف لیک کیا بلکہ اسے میڈیا پر بھی دیا، جو کہ نہ صرف ان کی نالائقی اور نااہلی کو ثابت کرتا ہے بلکہ ان کی کراچی کی ترقی کے لئے جاری کام کو بھی عوام کے سامنے لارہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ میرے نزدیک اس جیسے شخص کو اس کمیٹی تو کیا کابینہ کا بھی ممبر نہیں ہونا چاہیے۔ ایک اور سوال پر انہوںنے کہا کہ ہم وزیر اعظم جن کو یہ خفیہ خط لکھا گیا ان سے ضرور مطالبہ کریں گے کہ کس طرح ایک ان کا خفیہ خط نہ صرف لیک کیا گیا بلکہ اسے میڈیا پر بھی دیا گیا۔ اس موقع پر سلیم بندھانی سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ جنہوں نے ماضی میں غلط کام کئے ان کو آج ان کے کئے کی سزا مل رہی ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments