سپریم کورٹ نظر ثانی شدہ سماعت تک نسلہ ٹاور مسماری کاحکم معطل کرے،متاثرین

حلا ل کمائی سے مصدقہ اجازت ناموں کے بعد جگہ لی مگر اب ملک میں بڑا انسانی المیہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے 44فلیٹ مالکان سمیت تقریبا پونے 200متاثرین نے قانو ن کے دائرے میں جدوجہدکرنے کا عزم کرلیا

اتوار 20 جون 2021 20:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 جون2021ء) نسلہ ٹاور شاہراہ فیصل سندھی مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی کے متاثرہ مکینوں نے چیف جسٹس آ ف پاکستا ن سے بنیادی انسانی حقوق کے نام پر اپیل کی ہے کہ وہ نظر ثانی شدہ اپیل کو سننے تک مذکورہ بلڈنگ کو مسمار کرنے کا حکم معطل کر یں کیونکہ بلڈرز کی سماعت میں عدالت عظمی نے ان کے وکیل کو سنے بغیر اور مؤقف جانے بغیر بینج نے جو حکم صادر کیا ہے اس پر عملدرآمد سے ملک میں بڑا انسانی المیہ پیدا ہونے کا خدشہ لاحق ہو چکا ہے۔

ان خیالات کا اظہار اتوار کی شام نسلہ ٹاور الاٹیز ایکشن کمیٹی کراچی کے کنوینئر پرفیسر امتیاز،ڈاکٹر چتر کمار،ولی موریا،محمد علی،عبدالقادر سمیت دیگر متاثرین کی جانب سے بلڈنگ کے سامنے سڑک پر ہنگامی پریس کانفرنس اور متاثرین کے پر امن احتجاجی سے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں معمرمعذور مکینوں کے علاوہ خواتین اور معصوم بچوں کی بڑی تعداد رشریک تھی۔

(جاری ہے)

ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم نے زندگی بھر کی خون پسینے کی حلا ل کمائی سے حکومت اور متعلقہ اداروں کی مصدقہ اجازت ناموں کی دستاویز کی تصدیق کے بعد فلیٹس خریدے ہیں عدالت عظمی کی نظر میں اگر اسکی تعمیراتی میں کوئی بے قاعدگی ہے جرم کرنیوالوں کے بجائے ہمیں بے گھر کے کا حکم نہ صرف بنیادہ انسانی حقوق سے متصادم ہے بلکہ یہ شفاف انصاف پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

متاثرین نے چیف جسٹس سمیت صدر پاکستان،وزیر اعظم پاکستان،گورنر سندھ اور وزیر اعلی سندھ سمیت منتخب اراکین اسمبلی،میڈیا،انسانی حقوق پر یقین رکھنے والی تمام طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کی آواز بنیں اور ان کی بلاوجہ بربادی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔متاثرین کے مطابق وہ اپنے قانونی مشیروں کے مشورے کی روشنی میں ہنگامی نظر ثانی شدہ عدالت میں لیکر جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نسلہ ٹاور کے متاثرین کی تعداد زیادہ ہے اور اس دکھ کا مداوا ساری زندگی نہیں ہو سکے گا اس لئے 44فلیٹ مالکان سمیت تقریبا پونے 200متاثرین اپنے فلیٹ بچانے کیلئے قانون کے مطابق ہر قدم اٹھائیں گے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments