تجاوزات کی آڑ میں قانونی گھروں کو مسمار کرنا ظلم کی انتہاء ہے، قاری محمد عثمان

مساجد و مدارس کو ڈھانا عذاب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے،رہنما جمعیت علما ء اسلام پاکستان

اتوار جون 20:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 جون2021ء) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے رہنماء قاری محمد عثمان نے کہا کہ تجاوزات کی آڑ میں قانونی گھروں کو مسمار کرنا ظلم کی انتہاء ہے۔ مساجد و مدارس کو ڈھانا عذاب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ فیڈرل بی ایریا میں 1975 سے قائم 700 سے زائد گھروں کو گرانا ظلم عظیم ہوگا۔ انتظامیہ عدالت کے سامنے حقائق مسخ کرکے پیش کررہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلشن مصطفی بلاک 15 فیڈرل بی ایریا میں 1975 سے قائم آبادی کے دورے کے موقع پر متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جمعیت علماء اسلام ضلع سینٹرل کے جنرل سیکریٹری مولانا زرین شاہ، مولانا عنایت اللہ، جامعہ دارالقرآن کے مہتمم مولانا عبدالرشید رشیدی، مولانا شفیع الرحمن گجر اور دیگر بڑی تعداد میں علمائے کرام اور متاثرین کے نمائندے بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

فیڈرل بی ایریا کے مکینوں نے قاری محمد عثمان کو بتلایا کہ ہم یہاں 1975 سے آباد ہیں۔ 1980 سے کچی آبادی ڈکلیئر ہوئی ہے۔ 1980 میں ہی محمد خان جونیجو صاحب نے یہ اعلان کیا تھا کہ 1985 تک جو آبادیاں جہاں آباد ہیں انہیں وہیں پر مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔ یہ اعلان انہوں نے ہماری اسی آبادی میں کیا جب وہ ندی کے پروڈکشن دیوار کا افتتاح کرنے آئے تھے۔

1985 میں سندھ کچھی آبادی اتھارٹی کا وجود عمل میں آیا تو انہوں نے اس آبادی کو اپنی لسٹ میں شامل کیا۔ علاقہ مکینوں نے مزید کہا کہ 1990 میں اس علاقے کا سروے ہوا اور 1990 میں ہی ایس ٹی 14 کی N.O.C اس وقت K.D.A نے دی اور لیز کا کام شروع ہوگیا۔ 2001 میں لیاری ایکسپریس وے بنا تو تقریبا 400 گھر توڑے گئے اور باقی آبادی کولیز کے پیپر دے دیئے گئے۔ اس آبادی میں تمام سہولیات بجلی، پانی، گیس، پکی گلیاں موجود ہیں۔

دو بڑی مساجد، کئی مدارس اور سرکاری اسکول موجود ہیں۔ تمام آبادی رہائشی ہے۔ اور سندھ کچی آبادی اتھارٹی کے ماسٹر پلان میں موجود ہے۔ اور باقاعدہ نوٹیفیکیشن کے ذریعے لیز ہوئی ہے جس کی کاپیاں بھی موجود ہیں۔ قاری محمد عثمان نے اہلیان علاقہ کو ہرممکن مدد و تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ہر مظلوم کی آواز ہے اور آپکی پشت پر ہے۔

ان شاء اللہ ہر قانونی راستہ اپنائیں گے۔ کسی بھی موقع پر عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان اور پھر 1950 / 1960 / 1975 / 1985 سے بنی آبادیاں کس قانون کے تحت غیر قانونی اور ناجائز تجاوزات میں آتی ہیں کل کی پیداوار کمشنر کراچی سمیت ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ ادارے عدالت عظمی کو کس کے حکم پر غلط اعداد و شمار کے ساتھ بریفنگ دیتے ہیں کیا انہیں خدا کا خوف نہیں۔ کل قیامت کے دن جب کوئی سفارش کام نہیں آئے گی پھر کراچی انتظامیہ کہاں سے سفارش لائے گی انہوں نے کہا کہ ناجائز تجاوزات کے نام پر غریب کا خون چوسا جارہا ہے تو دوسری طرف ایک منصوبہ بندی کے تحت قدیم مساجد کی لیز کینسل کرکے شہید کیا جا رہا ہے جو بہرحال اللہ تعالی کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments