سانحہ مہران ٹاؤن کیس میں اہم پیش رفت، غفلت برتنے والے چار اداروں کے افسران بطور ملزمان نامزد

محکمہ لیبر، ایس بی سی اے، کے ڈی اے اور سول ڈیفنس غفلت کے مرتکب قرار، تفتیشی پولیس نے مقامی عدالت میں چالان پیش کردیا

ہفتہ 25 ستمبر 2021 16:08

سانحہ مہران ٹاؤن کیس میں اہم پیش رفت، غفلت برتنے والے چار اداروں کے ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 ستمبر2021ء) سانحہ مہران ٹاؤن کیس میں اہم پیش رفت، غفلت برتنے والے چار اداروں کے افسران بطور ملزمان نامزد، محکمہ لیبر، ایس بی سی اے، کے ڈی اے اور سول ڈیفنس غفلت کے مرتکب قرار، تفتیشی پولیس نے مقامی عدالت میں چالان پیش کردیا۔ عدالت نے چالان منظور کرلیا۔ کراچی سٹی کورٹ میں تفتیشی پولیس نے جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت میں غفلت برتنے والے چار اداروں کے افسران کو بطور ملزمان نامزد کرتے ہوئے پولیس نے چالان جمع کرادیا۔

چالان میں پولیس نے محکمہ لیبر، ایس بی سی اے، کے ڈی اے اور سول ڈیفنس غفلت کے مرتکب قرار دیدیا۔ محکمہ لیبر افسر محمد علی، ڈپٹی ڈائرکٹر ایس بی سی اے کورنگی عبدالسمیع، کے ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ عرفان حسین اور ڈپٹی کنٹرولر سول ڈیفینس شہاب الدین ملزمان میں ہیں۔

(جاری ہے)

تفتیشی حکام نے مقدمہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 119 بھی شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

عینی شاہدین سمیت 64 گواہوں کے نام چالان میں شامل کیا گیا ہے۔ چالان میں کہا گیا ہے کہ دوران تفتیش ان افسران کی مجرمانہ غفلت سامنے آئی۔ ڈی وی آر اور دیگر فارنسک رپورٹس کا تا حال موصول نہیں ہوئی۔ پولیس کی جانب سے شارٹ سرکٹ خارج از امکان قرار دیا ہے۔ آگ لگنے کے مقام پر آگ کو شدت دینے والی صمد بونڈ سمیت دیگر اشیا موجود تھیں۔ عینی شاہد نے 10 بجکر چھ منٹ پر دیکھا کہ دھواں اٹھ رہا ہے۔ بجلی نہیں تھی آگ لگنے کی وقت جنریٹر چل رہا تھا۔ جہاں آگ لگی وہاں کوئی سی سی ٹی وی کیمرا نہیں تھا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے کیس کا چالان منظور کرتے سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کردی۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments