ای او بی آئی میں خلاف ضابطہ بھرتیوں پر افسر کی وضاحت سامنے آگئی

صوبائی کوٹہ کی خلاف ورزی کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے صرف بے گناہ ملازمین کو ہد ف بنایا ہے ،عبدالاحد میمن میری ادارے میں تقرری اسامیوں کے اشتہار میں درج شرائط و ضوابط،تحریر ی اور انٹرویو کے بعد عمل میں آئی ،ڈپٹی ڈائریکٹر

پیر 18 اکتوبر 2021 19:25

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اکتوبر2021ء) ای او بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالاحد میمن نے بعض اخبارات اور ویب سائٹس پر شائع ہونے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری ادارے میں تقرری ای او بی آئی کی جانب سے اسامیوں کے اشتہار میں درج شرائط و ضوابط، مقررہ طریقہ کار اور میرٹ کے عین مطابق بذریعہ تحریری ٹیسٹ، انٹرویو اور طبی معائنہ کے بعد عمل میں آئی تھی۔

ای او بی آئی میںبھرتیوں کے دوران صوبائی کوٹہ کی خلاف ورزی کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی جانب سے اپنے دائرہ کار(ToR)سے تجاوز کرکے اور حقائق کو مسخ اور غلط ریکارڈ کا حوالہ دے کرایچ آر ڈپارٹمنٹ کے ان بااثر افسران کی نشان دہی کرنے کے بجائے صرف بے گناہ ملازمین کو ہد ف بنایا گیاہے۔

(جاری ہے)

اپنے وضاحتی بیان میں عبدالاحد میمن نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت 1998ء سے 2006 ء تک تمام سرکاری اداروں میں بھرتیوں پر عائد پابندی کے باعث اسٹبلشمنٹ ڈویژن، حکومت پاکستان نے مختلف وفاقی اداروں میں افرادی قوت کی قلت کے باعث مورخہ 12 ،اپریل2002ء کو بذریعہ نوٹیفکیشن نمبر3/11.2002-R-II ،انٹرنی پروگرام متعارف کراکے سرکاری،نیم سرکاری اور خودمختار اداروں میں انٹرنیز کی بھرتیاں شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ای او بی آئی نے بھی انٹرنیز کی بھرتی کا یہ معاملہ اپنے بورڈ آف ٹرسٹیز کے سامنے منظوری کے لئے پیش کیا تھا اوربورڈ کی جانب سے منظوری کے بعد انٹرنی پروگرام کے تحت انٹرنی کے دو بیچ کو بھرتی کیا گیا تھا۔ ای او بی آئی نے ان اسامیوں کے لئے مورخہ18،فروری2003ء کو اخبارات میں انٹرنی کی12 اسامیوں کے لئے امیدواروں سے درخواستیں طلب کی تھیں۔اس وقت میری تعلیمی قابلیت ایل ایل بی (آنرز) اور پنجاب بار کونسل کی انرولمنٹ تھی لہذاء میںاس اسامی کے لئے مقررہ شرائط پر پورا اترتا تھا تھے ۔

انہوںنے کہا کہ ای او بی آئی میںبھرتیوں کے دوران صوبائی کوٹہ کی خلاف ورزی کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی جانب سے اپنے دائرہ کار(ToR)سے تجاوز کرکے اور حقائق کو مسخ اور غلط ریکارڈ کا حوالہ دے کراچی آر ڈپارٹمنٹ کے ان بااثر افسران کی نشان دہی کرنے کے بجائے صرف بے گناہ ملازمین کو ہد ف بنایا گیا تھا، جو باقاعدہ ای او بی آئی کے قواعد و ضوابط کے مطابق ادارہ میں بھرتی ہوئے تھے ۔

اس ضمن میں ،میںنے اپنی تحریری گزارشا ت11نومبر2020 کو بذریعہ ای میل اور بذریعہ تحریر چیئرمین، ای او بی آئی اور ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈپارٹمنٹ کو 23فروری2020کو ارسال کی تھی۔جس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔انہوںنے کہا کہ میری ای او بی آئی کی ملازمت پرمستقلی باقاعدہ میرٹ پر اور سندھ( دیہی) ضلع شکارپور کے کوٹہ پر عمل میں آئی تھی ۔جبکہ کمیٹی کی رپورٹ اور مذکورہ خبر میں گمراہ کن طور سے اور بدنیتی سے ان کو سندھ (شہری) کے کوٹہ پر ملازم ظاہر کیا گیا ہے،جو سراسر گمراہ کن اور غلط ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments