''ابو کہہ کر گئے ہیں کہ انہوں نے دادا کو قتل کردیا ہے جا کر دیکھ لو''

کراچی میں اپنے والد کو قتل اور والدہ کو شدید زخمی کرنے والے بد بخت ملزم کے بیٹے کا مدعی سے مکالمہ

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ 23 اکتوبر 2021 14:47

''ابو کہہ کر گئے ہیں کہ انہوں نے دادا کو قتل کردیا ہے جا کر دیکھ لو''
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 اکتوبر 2021ء) : گذشتہ روز شہر قائد کے علاقہ گلشن اقبال میں نشے کے عادی بیٹے نے ہاون دستے اور چمچے سے بوڑھے باپ کو قتل کر دیا جبکہ والدہ کو شدید زخمی کر دیا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ اس کے چھوٹے بھائی سمیر کی مدعیت میں درج کرلیا ہے۔ مقدمے کے مدعی نے بتایا کہ واردات میں ملوث بڑا بھائی داؤد نشے کا عادی ہے اوراکثر والدین سے جھگڑا کرتا تھا۔

مقتول والد اور زخمی والدہ اپنے کمرے سو رہے تھے، ہفتے کی صبح میرے بھتیجے محمد یاسین نے ہمیں سوتے ہوئے اٹھا کر بتایا کہ ابو کہہ کر گئے ہیں کہ انہوں نے دادا کو قتل کردیا ہے جا کر دیکھ لو، ہم اٹھ کر والد اور والدہ کے کمرے میں گئے تو والد کے سرپر شدید چوٹیں تھی اور وہ خون میں لت پت تھے۔

(جاری ہے)

مدعی مقدمہ نے کہا کہ میرے والد کے قریب ہاون دستہ اور لوہے کا بڑا چمچا خون آلود پڑا تھا۔

جبکہ والدہ کے منہ پر کپڑا تھا اور وہ بھی زخمی تھیں ، زخمی والد کو طبی امداد کے لیے فوری نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کے انتقال کی تصدیق کر دی۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم والد کو قتل کرنے کے بعد موقع سے فرار ہو گیا۔ تاہم ملزم کی تلاش شروع کر دی گئی ہے جس کے لیے چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد قتل اور تشدد کی اصل وجہ سامنے آئے گی۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ لاہور میں جائیداد کے تنازعہ پر ایک سفاک اور بد بخت بیٹے نے اپنی ضعیف والدہ اور چھوٹے بھائی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔ ملزم شہزاد نے اپنی 75 سالہ ماں اور 42 سالہ چھوٹے بھائی کو کلہاڑی کے وار کرکے قتل کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم شہزاد کا اپنی ماں اور بھائی سے کئی ماہ سے 6 مرلے کے مکان کا تنازعہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے ملزم نے صبح 6 بجے اپنی ماں اور بھائی کو سوتے ہوئے کلہاڑیوں کے وار کر کے قتل کر دیا اور پولیس کو بلا کر یہ بتایا کہ ڈاکوؤں نے قتل کیا۔ لیکن بعد ازاں پولیس تفتیش کے دوران مشکوک بیان پر ملزم نے فوری طور پر اعتراف جُرم کر لیا، جس پر اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments