ساحر کی شاعری اُردو ادب میں کلاسک کا درجہ رکھتی ہے ،سجاد عباسی ایڈوکیٹ

پل دو پل کے شاعر نے عام آدمی کے دکھ ،محرومی اور ناانصافی کو نغموں میں ڈھال دیا ،ارشد عباسی

اتوار 24 اکتوبر 2021 18:00

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اکتوبر2021ء) بزم امکان سحر کے تحت ہندو پاک کے معروف شاعرو گیت نگار ساحر لدھیانوی کی 41ویں برسی پر گلستان ادب ہائوس نارتھ ناظم آبادمیں منعقدہ تقریب سے مہمان خصوصی بزم امکان سحر کے سر پرست و انجمن اتحاد عباسیہ پاکستان کے لیگل ایڈوائزر ممتاز قانون دان سجاد عباسی ایڈوکیٹ اور سندھ انڈسٹریل اینڈ بزنس فورم کے چیئرمین وعباسی ایکشن کمیٹی کے سر پرست اعلیٰ ارشد محمود عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساحر لد ھیانوی کی سحر افزوں شاعری اردو ادب میں کلاسک کا درجہ رکھتی ہے۔

ان کی شاعری کی مقبولیت کی بنیادی وجہ عام لوگوں کے دکھ ،محرومی اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ہے ان کی شاعری دراصل مظلوم پسے ہوئے غربت زدہ یاس کے صحرا میں چلتے ہوئے مسافروں کا نوحہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ساحر نے عام آدمی کے دکھ محرومی اور ناانصافی کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ لفظوں کا روپ دے کر نغموں میں ڈھال دیا اور جب عوامی جذبات نے لفظوں کا پیراہن پہنا تو ’’تلخیاں ‘‘ ’’پرچھائیاں‘‘ ’’آئو کہ خواب بنیں ‘‘ اور ’’گاتا جائے بنجارہ‘‘ کی صور ت میں ایسی بے مثال شاعری سامنے آئی کہ جس کے سامنے ہر دیوار ریت ثابت ہوئی ۔

انہوں نے کہا کہ ساحر اپنے ساحرانہ قلم کی نوک سے آزادی ،مساوات اور انسانیت کے لئے زندگی بھر لڑتا رہا، آواز بلند کرتا رہا وہ ہمیشہ مردِ مجاہد رہا اور ظلم و ناانصافی کے خلاف لکھتا رہا یہاں تک کہ اس نے جو خواب بنے وہ بھی ان ہی لوگوں کے لئے تھے جن کے لئے وہ لکھتا رہا ساحر نے سماج کے ان تاریک پہلوئوں کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے جو انسانیت کے چہرے پر بد نما داغ ہیں۔ تقریب سے ممتاز ماہر تعلیم وقلم کار پروفیسر تنویر ملک،ڈاکٹر ایوب عباسی،مختار اجمیری ،ودیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ معروف شاعر نورالدین نور نے پل دو پل کے شاعر کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا ۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments