کراچی؛ نسلہ ٹاور کے اطراف دفعہ 144 نافذ‘ احتجاج پر پابندی عائد کردی گئی

4 سے زائد افراد کے نسلہ ٹاور کے اطراف جمع ہونے اور غیر متعلقہ افراد کی جانب سے احتیاطی رکاوٹیں عبور کرنے پر بھی دفعہ 144 کے تحت کارروائی ہو گی، نوٹیفکیشن جاری

Sajid Ali ساجد علی اتوار 28 نومبر 2021 12:23

کراچی؛ نسلہ ٹاور کے اطراف دفعہ 144 نافذ‘ احتجاج پر پابندی عائد کردی گئی
کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 28 نومبر 2021ء ) صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پر مسمار کی جانے والی رہائشی عمارت نسلہ ٹاور کے اطراف دفعہ 144 نافذ کرکے احتجاج کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق نسلہ ٹاور کے اطراف دفعہ 144 نافذ کرنے کا نوٹی فکیشن کمشنر کراچی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ 4 سے زائد افراد کے نسلہ ٹاور کے اطراف جمع ہونے اور غیر متعلقہ افراد کی جانب سے احتیاطی رکاوٹیں عبور کرنے پر بھی دفعہ 144 کے تحت کارروائی ہو گی کیوں کہ نسلہ ٹاور کے اطراف 4 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے،یہ پابندی نسلہ ٹاور مکمل طور پر مسمار ہونے تک نافذ العمل رہے گی۔

خیال رہے کہ شہر قائد میں نسلہ ٹاور کے باہر مکین سراپا احتجاج ہیں، مظاہرین نے عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جس پر پولیس کو طلب کر لیا گیا ، مظاہرین کے شدید احتجاج کے باعث نسلہ ٹاور کی طرف جانے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور شیلنگ بھی کی جب کہ پولیس اور مظاہرین بھی آمنے سامنے آ گئے ، مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ عمارت کو گرانے سے قبل معاوضہ طے کیا جائے اور معاوضے کی ادائیگی کا طریقہ کار بھی بتایا جائے ، مظاہرین کے احتجاج میں مزید شدت آنے کی وجہ سے رینجرز کو بھی طلب کر لیا گیا۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ نسلہ ٹاور کو گرانے کا عمل شروع کر دیا گیا، عمارت کو مسمار کرنے کا عمل بالائی منزلوں سے شروع کیا گیا ہے۔ فی الحال عمارت کی مسماری کے عمل کیلئے مزدوروں کی مدد لی جا رہی ہے، مزدوروں نے ‏عمارت کو مسمار کرنے کا آغاز کر دیا ہے ، کثیر منزلہ عمارت کی بالائی فلور کو مزدوروں کی مدد سے مسمار کیا جا رہا ہے ، نسلہ ٹاور کی مسماری کے آپریشن کے حوالے سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ‏حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی آپریشن میں صرف عمارت کی دیورایں توڑی جائیں گی، 2 روز بعد عمارت کو مسمار کرنے کیلئے ہیوی مشینری کی ‏مدد بھی حاصل ہو جائے گی۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments