بلڈرز اور سندھ حکومت مگرمچھوں کے آنسو بہانے کے بجائے نسلا ٹاورز کے متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی کو یقینی بنائیں، حلیم عادل شیخ

نسلہ ٹاور کا مسئلے پر سندھ حکومت کے وزرا متاثرین سے ہمدردی حاصل کرنے کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہیں لیکن متاثرین کو معاوضے دینے پر راضی نہیں ، میڈیا سے گفتگو

اتوار 28 نومبر 2021 19:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 نومبر2021ء) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ بلڈرز اور سندھ حکومت مگرمچھوں کے آنسو بہانے کے بجائے نسلا ٹاورز کے متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی کو یقینی بنائیں، نسلہ ٹاور کا مسئلے پر سندھ حکومت کے وزرا متاثرین سے ہمدردی حاصل کرنے کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہیں لیکن متاثرین کو معاوضے دینے پر راضی نہیں ۔

اتوار کو اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نسلہ ٹاور کا مسئلے پر سندھ حکومت کے وزرا متاثرین سے ہمدردی حاصل کرنے کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہیں لیکن متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل نہیں کرتے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بلڈرز اور سندھ حکومت پر زور دیا کہ وہ مگرمچھوں کے آنسو بہانے کے بجائے نسلا ٹاورز کے متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔

آباد کے چیئرمین نے کہا کہ 700 غیر قانونی عمارتیں زیر تعمیر ہیں لیکن یہ بتایا جائے کہ ان ناجائز ہائوسنگ پراجیکٹس کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا، انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ بلڈرز جو این او سی حاصل کرنے کے لیے افسران کو رشوت دیتے تھے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ذمہ دار افسران، کوآپریٹو سوسائٹیز، کے ایم سی، محکمہ ریونیو کو جوابدہ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزاروں عمارتیں کھڑی کی گئیں اور کراچی میں ہزاروں ایکڑ اراضی بھی قبضے کئے جارہے ہیں ایم ڈی اے کی تیسر ٹان اسکیم میں غریبوں کے سیکڑوں پلاٹوں قبضہ گروپ نے قبضہ کر لی اہے، انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نسلہ ٹاور متاثرہ خاندانوں کو اپنے وسائل سے یا ذمہ دار بلڈرز اور افسران سے رقم حاصل کرکے متاثرین کو معاوضہ دلوانا یقینی بنانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل آئین پاکستان کے آرٹیکل 140-A کی واضح خلاف ورزی ہے جس میں مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی کی اجازت دی گئی ہے، لیکن نئی ترمیم سے نچلی سطح سے تمام اختیارات واپس لے لئے گئے ہیں انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا پی ٹی آئی ان ترامیم کو چیلنج کرے گی جو بلدیاتی اداروں کو ان کے آئینی کاموں اور ذمہ داریوں سے محروم کرتی ہیں۔

اگلی حکومت سندھ میں پی ٹی آئی کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی این ایف سی چاہتی تھی لیکن وہ صوبائی مالیاتی کمیشن کو بلانے سے گریزاں تھی نئی ترامیم کے ذریعے لوکل گورنمنٹ کے چیئرمینوں اور میئروں کے انتخاب کے لیے خفیہ رائے شماری متعارف کروائی جارہی ہے اس کا مطلب ابھی سے ہی دھاندھلی کی شروعات کی گئی ہے ۔ سندھ حکومت پہلے ہی بلدیاتی اداروں کو ان کے بنیادی کاموں بشمول بلڈنگ کنٹرول، ویسٹ مینجمنٹ وغیرہ سے محروم کر چکی ہے اور اب وہ لوگوں کے حقوق اور مینڈیٹ کو غصب کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہم اس قانون کو اعلی عدالتوں میں چیلنج کریں گے جو آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔

قمبر شہدادکوٹ میں پی ٹی آئی رہنما اور تاجر رانا سخاوت راجپوت کے قتل پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حلیم عادل نے کہا کہ قتل کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کی ہے۔ وزیراعلی سندھ جو وزیر داخلہ بھی ہیں ہمیں بتائیں کہ پولیس جرائم پر قابو پانے کے لیے کیا کر رہی ہے خاص طور پر اسی کالعدم تنظیم کی جانب سے دعوی کیے جانے والے کچھ قتلوں کی تفتیش نہیں کی جاتی۔

پیپلز پارٹی سیکیورٹی رسک بن چکی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی اور اس کے وزیراعلی مراد علی شاہ کا بیانیہ سندھ میں وفاق مخالف جذبات کو ہوا دے رہا ہے، انہوں نے الزام لگایا اور مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اپنی بداعمالیوں اور کرپشن کو چھپانے کے لیے سندھ کارڈ کھیل رہی ہے اور صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے مخالفت کر رہی ہے۔ سندھ کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کا اقدام اٹھائے ہیں۔

انہوں نے مشاہدہ کیا کہ کوویڈ لاک ڈان، اسپتالوں کا انتظام، ایس آئی ڈی سی ایل، بنڈل آئی لینڈ کی ترقی، بدعنوانی کے خلاف نیب کی کارروائی، پانی کی قلت اور افسران کے تبادلے سمیت مختلف معاملات کو سندھ پر حملہ قرار دیا گیا۔ صوبے میں ڈکیتیوں کا مسئلہ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے اور سڑکیں اور ریلوے ٹریک غیر محفوظ ہو چکے ہیں جب کہ صوبائی حکومت نے صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی مدد کے لیے رینجرز کی فراہمی کی وفاقی حکومت کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔ حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ ڈکیتی، اسٹریٹ کرائم، قتل اور ٹارگٹ کلنگ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کو روکنے کے لیے صوبے بھر میں رینجرز کو اختیارات کے ساتھ تعینات کیا جائے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>