خودکشی سے قبل بھی زوہیر نے ایک کمپنی میں انٹرویو دیا تھا

کمپنی نے نوجوان کو ملازمت دینے سے منع کیا تھا،انٹرویو کے بعد زوہیر حسین نے شاپنگ مال آ کر تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی تھی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ 1 دسمبر 2021 13:56

خودکشی سے قبل بھی زوہیر نے ایک کمپنی میں انٹرویو دیا تھا
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ یکم دسمبر 2021ء) : گذشتہ روز ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا جب بیروزگار نوجوان نے کراچی کے معروف نجی شاپنگ مال کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی تھی ۔متوفی انوچولی کا رہائشی تھا۔نوجوان کی والدہ اسکول ٹیچر ہیں جب کہ ان کے دو بھائی اور ایک بہن ہے۔متوفی کے دونوں بھائی آن لائن کام کرتے ہیں جب کہ وہ کافی عرصے سے بیروزگار تھا۔

ذرائع کے مطابق متوفی ملازمت کے لیے متعدد کمپنیوں ، فیکٹریوں ، کارخانوں اور دفاتر میں انٹرویو دے چکا تھا مگر اسے کہیں نوکری نہیں ملی،خودکشی سے قبل بھی اس نے ایک کمپنی میں انٹرویو دیا تھا جہاں اسے ملازمت دینے سے منع کر دیا گیا۔انٹرویو کے بعد زوہیر حسین نے شاپنگ مال آ کر تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی۔

(جاری ہے)

میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ شب 5 بجے راشد منہاس روڈ پر واقع لکی ون شاپنگ مال کی تیسری منزل نے 30 سالہ زہیر حسین نے خودکشی کی تھی۔

وڈ پر واقع لکی ون شاپنگ مال کی تیسری منزل نے 30 سالہ زہیر حسین نے خودکشی کر لی۔واقعے کی کئی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔دلخراش واقعے کو دیکھ کر مال میں موجود افراد کی چیخیں نکل گئیں، شاپنگ مال میں موجود خواتین اور بچے خوفزدہ ہو گئے۔ واقعے کے بعد وہاں موجود درجنوں افراد وہاں سے چلے گئے۔پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ متوفی تیسری منزل سے سر کے بل فرش پر گر کر موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا۔

پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی۔فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او جمیل عباسی کے مطابق سید زہیر نے پلازے کی تیسری منزل سے چھلانگ لگائی۔ شاپنگ مال کی تیسری منزل سے نیچے گرگیا ہے۔پرائیویٹ اسپتال لے گئے جہاں وہ علاج کے دوران انتقال کر گئے۔جمیل عباسی نے کہا کہ شاپنگ مال میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں۔انتظامیہ نے ایک فوٹیج فراہم کی جس میں واضح ہے کہ نوجوان نے خود ہی چھلانگ لگائی۔انہوں نے مزید کہا کہ معاملے کی مکمل چھان بین سے پہلے اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments