روئی کے بھائو میں فی من 1500 تا 2000 روپے کی غیر معمولی کمی

اومیکرون وبا میں اضافہ ہونے کی صورت میں بھائومیں مزید گراوٹ آنے کا خدشہ ہے، ماہرین روئی کی پیداوار میں 25 لاکھ گانٹھوں کا اضافہ، کل پیداوار تقریبا 75 لاکھ گانٹھوں کے ہونے کی توقع

اتوار 5 دسمبر 2021 20:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 دسمبر2021ء) مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران اومیکرون وبا کی وجہ سے دنیا بھر کی کموڈیٹیز مارکیٹوں میں زبردست مندی کے اثرات مقامی کاٹن پر بھی دیکھے گئے روئی کے بھائو میں کوالٹی کے حساب سے فی من 1500 تا 2000 روپے کی نمایاں کمی واقع ہوئی جس کے باعث جن جننگ فیکٹریوں میں روئی پڑی ہوئی ہے وہ جنرز بری طرح اضطراب میں مبتلا ہوگئے ہیں جبکہ ٹیکسٹائل اسپنرز نے بھائو میں مزید گراوٹ کے خوف سے روئی کی خریداری تقریبا روک دی ہے۔

نیویارک کاٹن وعدے کا بھا ئوبھی تقریبا 14 امریکن سینٹ کی غیر معمولی کمی کے ساتھ فی پانڈ 104 امریکن سینٹ کی نیچی سطح پر آگیا ماہرین کا خیال ہے کہ اومیکرون وبا میں اضافہ ہونے کی صورت میں بھائومیں مزید گراوٹ آنے کا خدشہ ہے اس وقت جنرز اور بھٹی کے بیوپاری اور زمینداروں کے پاس مشکل تقریبا 8 لاکھ گانٹھوں کی پھٹی ہاتھ میں ہوگی صوبہ سندھ میں پھٹی کی رسد تقریبا ختم ہو چکی ہے جبکہ پھٹی کی کوالٹی بھی کم تر ہوتی جا رہی ہے اس سال کپاس کا سیزن نسبتا روایت سے تقریبا ایک مہینہ پہلے شروع ہوگئی تھی سیزن کا اختتام بھی بہت جلدی ہو جائے گا ٹیکسٹائل ملز نے وافر مقداد میں بیرون ممالک سے روئی کے درآمدی معاہدے کیے ہوئے ہیں اور درآمد کی ہوئی روئی کی ڈیلیوری بھی آنا شروع ہوگئی ہے جس کے باعث ملز کو اس کی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے اور ٹیکسٹائل مصنوعات تیار کرنے والوں کی ڈیلیوری میں تاخیر ہونے کے سبب کاٹن یارن کی ادائیگیوں میں بھی تاخیر ہو رہی ہے ٹیکسٹائل ملز کی بینک لمیٹیں ختم ہوتی جارہی ہے جس کے باعث مارکیٹ میں مالی بحران پیدا ہوگیا ہے جس کی ایک وجہ ڈالر کے بھا میں غیر معمولی اضافہ بھی ہے بہرحال کپاس کی پیداوار تقریبا 75 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے جبکہ ملز کی کھپت تقریبا ایک کروڑ 60 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہونے کی توقع ہے اس طرح ملوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بیرون ممالک سے تقریبا 75 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنی پڑیں گی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کیونکہ ملک میں روئی کی پیداوار کم ہے اس کی وجہ سے روئی تو فروخت ہو جائے گی لیکن بھا کا مسئلہ رہے گا۔

(جاری ہے)

روئی کا بھا پہلے ہی زیادہ ہے اس وجہ سے جنرز بھی روئی کا اسٹاک کرنے کے حق میں نہیں ہے۔صوبہ سندھ میں روئی کا بھائو کوالٹی کے حساب سے 1500 تا 2000 روپے کم ہوکر فی من 13500 تا 16500 روپے رہا۔ پھٹی جو معمولی دستیاب ہے اس کا بھائو فی 40 کلو 4500 تا 6800 روپے رہا بنولہ کا بھائو فی من 1350 تا 2200 روپے رہا۔ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھائو کوالٹی کے حساب 1000 تا 1500 روپے کم ہوکر فی من 15000 تا 16500 روپے رہا پھٹی کا بھائو فی 40 کلو 5500 تا 7100 روپے بنولہ کا بھائو فی من 1400 تا 2200 روپے رہا۔

صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھائو فی من 15000 تا 16500 روپے رہا پھٹی کا بھائو فی 40 6200 تا 8400 روپے رہا بنولہ کا بھائو فی من 1500 تا 2300 روپے رہا۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں 800 روپے کی کمی کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 16700 روپے کے بھا پر بند کیا۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں بھی غیر معمولی مندی کا عنصر غالب رہا۔

نیویارک کاٹن کے وعدے کا بھا 1.18 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر 1.02 امریکن سینٹ کی نیچی سطح پر آگیا۔ بہر حال USDA کی ہفتہ وار فروخت اور برآمدی رپورٹ میں فروخت 3 لاکھ 74 ہزار 900 گانٹھوں کی ہوئی ہے جو گزشتہ ہفتہ کی رپورٹ سے 90 فیصد زیادہ ہے۔ اس بار ویتنام ایک لاکھ 47 ہزار 100 روپے گانٹھوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا چین ایک لاکھ 23 ہزار 600 گانٹھوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔

پاکستان نے 36 ہزار 600 گانٹھیں خریدی جبکہ برآمد 71 ہزار 400 گانٹھوں کی ہوئی جو گزشتہ ہفتہ کے نسبت 27 فیصد کم رہی چین 23 ہزار 700 گانٹھیں درآمد کرکے سرے فہرست رہا۔ USDA کی فروخت زیادہ ہونے کے باوجود اومیکرون کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹوں میں زبردست مندی کے اثرات کی وجہ سے مندی کا رجحان ہے۔علاوہ ازیں برازیل وسطی ایشیا چین بھارت میں بھی روئی کے بھا میں مندی رہی جبکہ افریقہ میں وبا کا زیادہ زور ہونے کی وجہ سے روئی کی فراہمی تقریبا بند ہوچکی ہے۔

ٹیکسٹائل ملز کے ذرائع کے مطابق اس سال اب تک ٹیکسٹائل مصنوعات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا مہینے میں برآمدات میں 2.9 ڈالر کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن نے یکم دسمبر تک ملک میں روئی کی پیداوار کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جس کے مطابق اس عرصے تک ملک میں روئی کی 71 لاکھ 68 ہزار 118 گانٹھوں کی پیداوار ہوئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کی پیداوار 46 لاکھ 48 ہزار 92 گانٹھوں کے نسبت 25 لاکھ 20 ہزار 26 گانٹھیں %54.22 فیصد کا اضافہ۔

اس عرصے میں صوبہ پنجاب میں روئی کی پیداوار 36 لاکھ 80 ہزار گانٹھوں کی ہوئی جو گزشتہ سال کی پیداوار 26 لاکھ 34 ہزار 487 گانٹھوں کے نسبت 10 لاکھ 44 ہزار 529 گانٹھیں %39.65 فیصد زیادہ ہے۔صوبہ سندھ میں روئی کی پیداوار 34 لاکھ 89 ہزار گانٹھوں کی ہوئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کی پیداوار 20 لاکھ 13 ہزار 605 گانٹھوں کے نسبت 14 لاکھ 75 ہزار 497 گانٹھیں %73.28 فیصد زیادہ ہے۔

اس عرصے میں نجی برآمدکنندگان نے 16 ہزار گانٹھوں کی برآمد کی جو گزشتہ سال کی برآمد 45 ہزار 300 گانٹھوں کے نسبت 29 ہزار 300 گانٹھیں %64.68 فیصد کم ہیں۔ ٹیکسٹائل واسپنگ ملزکی نے 66 لاکھ 78 ہزار 450 گانٹھیں خریدی جو گزشتہ سال کے 37 لاکھ 9 ہزار 309 گانٹھوں کے نسبت 29 لاکھ 69 ہزار 141 گانٹھیں %80.04 فیصد زیادہ ہے۔جنرز کے پاس 4 لاکھ 73 ہزار 527 گانٹھوں کا اسٹاک موجود ہے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے اسٹاک 8 لاکھ 93 ہزار 342 گانٹھوں کے نسبت تقریبا 50 فیصد کم ہے۔

اس عرصے میں 345 جننگ فیکٹریاں چل رہی ہیں جبکہ گزشتہ سال 449 جننگ فیکٹریاں چل رہی تھیں اس طرح 104 جننگ فیکٹریاں کم چل رہی ہیں جو %23.16 فیصد کم ہیں۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کپاس کی کل پیداوار تقریبا 75 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہونے کی توقع ہے جبکہ ذرائع کے کہنے کے مطابق تقریبا 8 لاکھ گانٹھیں گول میں فروخت ہوئی ہیں۔

بہرحال مقامی ٹیکسٹائل واسپننگ ملز کی ضرورت تقریبا ایک کروڑ 60 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہے جس کو پوری کرنے کے لیے بیرون ممالک سے روئی کی تقریبا 75 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کرنے پڑیں گے کپاس کے نجی درآمد نندگان کے کہنے کے مطابق فی الحال تقریبا 45 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کر لیے گئے ہیں کنٹینرز اور شپمینٹ کے دام میں اضافہ اور ڈلیوری میں غیر معمولی تاخیر کی وجہ اور ڈالر کے بھا میں غیرمعمولی اضافے کے سبب درآمدی روئی کی رسد میں تاخیر اور مہنگی پڑے گی گزشتہ سال ملک میں روئی کی درآمد 1 ارب 50 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہوئی تھی اس سال روئی کے بھا میں اضافہ اور راہدای مہنگی ہونے کے سبب روئی کی درآمد 2 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے اس کے علاوہ خوردنی تیل کی درآمد میں بھی اضافہ ہوگا۔

دریں اثنا بین الاقوامی ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی تجارتی نمائش ہیم ٹیکسٹائل کو اومیکرون وبا کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے باعث منسوخ کردیا گیا ہے یاد رہے کہ یہ نمائش 11 تا 14 جنوری کو جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں منعقد ہونے والی تھی اس میں 135 سے زائد ممالک شرکت کرنے والے تھے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>