پچھلے تین حکومتوں کے مناسبت سے مہنگائی سب سے زیادہ ہے،شازیہ مری

پیپلزپارٹی 10 دسمبر کو پیٹرول کی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری پر حکومت کے خلاف احتجاج کرنے جارہی ہے ،پریس کانفرنس

جمعرات 9 دسمبر 2021 16:54

پچھلے تین حکومتوں کے مناسبت سے مہنگائی سب سے زیادہ ہے،شازیہ مری
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 دسمبر2021ء) پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ پچھلے تین حکومتوں کے مناسبت سے مہنگائی سب سے زیادہ ہے، یہ ذہنیت پاکستان پر مسلط رہی تو پاکستان کو نقصان ہوگا اس ٹولے کو گھر جانا ہوگا۔ پیپلزپارٹی 10 دسمبر کو پیٹرول کی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری پر حکومت کے خلاف احتجاج کرنے جارہی ہے ۔

ملک میں عوام کو گیس اور بجلی میسر نہیں ہے ۔تین برس گذر گئے ہیں حکومت نے لوگوں سے صرف تبدیلی کے نام پر بدلہ لیا ہے۔جمعرات کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شازیہ مری نے کہا کہ ملک کے حالات پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ سیالکوٹ واقع پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہیں شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک وفاقی حکومت کے وزیر نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیا، اس کی بھی سخت مذمت کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

سلیکٹڈ وزیر اعظم کو پہلے اپنے وزرا کو سمجھانا چائیے ۔یہ ذہنیت پاکستان پر مسلط رہی تو پاکستان کو نقصان ہوگا اس ٹولے کو گھر جانا ہوگا۔ ایک غیر ملکی کو بربریت کے ساتھ قتل کیا گیا۔انہوںنے کہا کہ عمران نیازی نے 126 دن کا دھرنا دیا وہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس لہراتے تھے۔ آج کی بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ عمران نیازی دیکھ لیں۔

پی پی رہنما نے کہا کہ عوام کے 85.9 فیصد اکثریت نے وفاقی حکومت کی خود احتسابی کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔93 فیصد لو گوں کا کہنا ہے کہ پچھلے تین حکومتوں کے مناسبت سے مہنگائی سب سے زیادہ ہے ۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی 66.8 فیصد پاکستانیوں کا ماننا ہے کہ موجوہد پی ٹی آئی حکومت کی احتساب مہم یک طرفہ ہے۔پاکستان میں لوگ مانتے ہیں سب سے زیادہ کرپشن خود حکومت کر رہی ہے۔

شازیہ مری نے کہا کہ بغیر جرم ثابت ہونے کے خورشید شاہ کو دو برس سے زیادہ جیل میں رکھا گیا ہے۔ 820 ارب جو احتساب کے ذریعے رکور کیے ہیں اس کا حکومت حساب دے، نیب نے آج تک 821 ارب روپے کے بارے میں نہیں بتایا۔ نیب کو پولیٹیکل انجینئرنگ کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب عمران خان کا امتحان ہے کہ تازہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو سمجھتے ہیں یا نہیں۔

93 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ پچھلے تین حکومتوں کے مناسبت سے مہنگائی سب سے زیادہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کل عمران نیازی نے کہا ہے کہ ملک اب بھی دنیا میں سب سے سستا ترین ہے۔ یقینا عمران خان کیلئے سستا ترین ملک ہو سکتا ہے۔ 6 ارب ڈالرز آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھوا دیے گئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کی فی کس آمدنی 13 سو ڈالرز ہیں جبکہ انڈیا کی 2 ہزار فی کس آمدنی ہے ۔

اگر عمران خان ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی رپورٹ کی رد کرتے ہیں تو پھر۔پی ٹی آئی کے سارے وزیر جھوٹ بولتے ہیں ۔ملک میں نومبر میں مہنگائی کی شرح 11.5 تھی ۔قرضوں کا بھی ہماری معیشت پر فرق پڑتا ہے ۔عمران نیازی پہلے سال میں 16 بلین ڈالرز قرضہ لیا دوسرے سال میں 13 ارب ڈالرز جبکہ تیسرے سال میں 14 ارب ڈالرز قرضہ لیا ۔اب یہ نئے قرضے لیتے جارہے ہیں جھوٹ پر جھوٹ بولتے جارہی ہے ۔

اسٹیٹ بینک کہتا ہے کہ حکومت نے 70 فیصد کا قرضہ لیا ہے۔انہوںنے کہا کہ قومی اسمبلی کی پی اے سی میں چیئرمین نیب نہیں آتے ۔گرفتاری کا کہنے پر نیب چئیرمین پی اے سی اجلاس میں آئے ۔ان سے سوال کر چکے ہیں نیب میں کام کرنے ملازمین کی تنخواہ کیا ہے لیکن نہیں بتایا گیا۔820 ارب جو احتساب کے ذریعے ریکور کیے ہیں اس کا حکومت حساب دے ۔نیب نے آج تک 821 ارب روپے کے بارے میں نہیں بتایا ۔ شازیہ مری نے کہا کہ پیپلزپارٹی 10 دسمبر کو پیٹرول کی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری پر حکومت کے خلاف احتجاج کرنے جارہی ہے ۔ملک میں عوام کو گیس اور بجلی میسر نہیں ہے ۔تین برس گذر گئے ہیں حکومت نے لوگوں سے صرف تبدیلی کے نام پر بدلہ لیا ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments