مقامی عدالت ، سعید غنی کی اپوزیشن لیڈر اور نجی ٹی وی کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات، حلیم عادل شیخ پر فرد جرم عائد

ملزم کی جانب سے صحت جرم سے انکار پرعدالت نے 12فروری کو استغاثہ کے گواہوں کو طلب کرلیا

پیر 17 جنوری 2022 14:18

مقامی عدالت ، سعید غنی کی اپوزیشن لیڈر اور نجی ٹی وی کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات، حلیم عادل شیخ پر فرد جرم عائد
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 جنوری2022ء) مقامی عدالت نے صوبائی وزیر سعید غنی کی اپوزیشن لیڈر اور نجی ٹی وی کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ پر فرد جرم عائد کردی،ملزم کے صحت جرم سے انکار پر استغاثہ کے گواہوں کو طلب کرلیا۔ پیرکومقامی عدالت نے صوبائی وزیر سعید غنی کی اپوزیشن لیڈر اورنجی ٹی وی کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات کی سماعت ہوئی۔

اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ پر فرد جرم عائد کردی۔ ملزم کی جانب سے صحت جرم سے انکار کردیا گیا۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہان کو 12 فروری کو طلب کرلیا۔ پیپلز پارٹی کے سعید غنی کی جانب سے ہتک عزت کے مختلف مقدمات درج کئے گئے تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقامی نجی ٹی وی اور حلیم عادل شیخ کے خلاف تین کیسز کئے ہیں۔

(جاری ہے)

عدالت نے متعلقہ ایس ایچ او کو نجی ٹی وی کے حکام کو پیش کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کل جو احتجاج ہوا کیا وہ پیٹرول اور بجلی کی قیمت بڑھنے پر کیا گیا کیا گیس کی بندش پر کوئی احتجاج کیا گیا جتنے لوگ بھی احتجاج کررہے ہیں وہ اپنی نالائقی چھپانے کے لئے احتجاج کررہے ہیں۔ منی بجٹ پیش کرنے کے بعد تنقید کا رخ بدلنے کے لئے احتجاج کررہے ہیں۔

احتجاج کرنا ہے تو پیٹرول اور بجلی پر احتجاج کیا جانا چاہئے۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مہنگائی تلے دبا دیاگیا ہے۔ مجھ پر منشیات فروشوں کی سرپرستی کا جھوٹا الزام لگایا گیا۔ ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ میں منشیات فروشوں کی سرپرستی کرتا ہوں۔ میرے علم میں بات آئی تو اسپیکر سندھ اسمبلی سے انکوائری کی درخواست کی۔

آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی بنائی۔ کمیٹی نے تحقیقات کے بعد رپورٹ میں مجھے کلیئر قرار دیا۔ مجھ پر زمینوں پر قبضے کے الزامات لگائے گئے۔ میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ ہتک عزت کے دعوے دائر کئے۔ حلیم عادل شیخ کو تعلیم کی ضرورت ہے۔ انہیں انگریزی کی اے بی سی بھی نہیں پتہ۔ ڈاکٹر رضوان کے ساتھ میری نا تو کوئی رنجش ہے نا کبھی پولیس کے کام میں مداخلت کی ہے۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ میرے خلاف سعید غنی نے ڈائریکٹ کمپلین فائل کی ہے۔ مجھ پر الزام ہے کہ میں نے ان پر منشیات فروشی کا الزام لگایا ہے۔ یہ کوئی الزام نہیں سب جانتے ہیں۔ میں نے ٹاک شو میں ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ کا ذکر کیا تھا۔ ڈاکٹر رضوان نے سعید غنی پر منشیات فروشوں کی سرپرستی کی رپورٹ بنائی تھی۔

مجھ پر پہلے بھی پیپلز پارٹی نے کی مقدمات بنائے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دو سال تک کنری اور گھوٹکی میں جھوٹے کیسز میں حاضریاں دی ہیں،تمام کیسز میں سرخرو ہوا ہوں عدالت نے باعزت بری کیا ہے۔پی ایس 88میں پیپلزپارٹی نے مجھ پر حملہ کروایااورجھوٹا کیس بھی مجھ پر بنایا گیا۔ڈیڑھ مہینہ جیل میں بھی گزارااس میں بھی باعزت بری ہوجائوں گا۔انہوں نے کہاکہ محترمہ بے نظیربھٹوکی پارٹی نے بڑی بڑی تحریکیں چلائی تھیں،آج کی پارٹی انتقامی کارروائیوں پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ چار کیسز مجھ پر بنائے گئے ہیں،ہتک عزت کا دعویٰ کیا گیا ہے ،منشیات فروشی کا الزام میں نہیں لگارہا،منشیات فروشی میں مسٹر کلین شیو اور ان کے رشتہ دار شامل ہیں۔پیپلزپارٹی نے ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ سے سعید غنی کو نکلوایا،ابھی تو حمید اللہ کا وڈیو بیان بھی موجود ہے جو بتا رہا ہے کس کے لئے کام کرتا تھا۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ میں ثابت ہوا ہے مسٹر کلین شیو منشیات فروشوں کی سرپرستی کرتے ہیں ۔

حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیاکہ وفاقی حکومت ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ پر جے آئی ٹی بنائے ،جس میں تمام ادارے شامل کئے جائیں کہ کون سچا ہے ۔انہوں نے کہاکہ مسٹر کلین شیو سچے ہیں یا ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ درست ہے ۔ہم اس معاملے پر جلد عدالت جائیں گے۔اے این ایف بھی ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ پر کارروائی کرے۔ حلیم عادل شیخ نے کہاکہ شہید ناظم جوکھیو کے کیس کو پروسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کے ذریعے خراب کیا جارہا ہے ۔

پروسیکیوٹر ملزمان کو سپورٹ کر رہے ہیں ۔سادہ چالان پیش کیا گیا جس میں تمام ملزمان کو بری کیا گیاجبکہ سراج لاشاری کی رپورٹ کو دبا دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ شیریں جوکھیو کے ساتھ ہیں انصاف دلوائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ہوری ہے ،امن امان کی صورتحال خراب ہے ،90 فیصد کرمنل جیلوں میں جاکر واپس کارروائیاں کرتے ہیں ۔پولیس کا کام ہے چالان بنا کر پراسیکیوشن کو دینا ۔

وہاں مال چلتا ہے کرمنل کو آزاد کروا دیا جاتا ہے ۔سندھ کا پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کرمنلز کا سہولت کار بن چکا ہے ۔انہوں نے کہاکہ قانون کے وزیر بھی مرتضی وہاب ہیں۔کل رات 30لاکھ کے موبائل چھیینے کی واردات ہوئی ہے ۔بلاول زرداری کی ٹیم میں کلین شیو لوگ تباہی کے ذمہ دار ہیں ۔پانی کی ڈھکن کھولنے والے وزیروں کی عزت کو بھی خطرہ ہے۔انہوں نے کہاکہ میرے پر فرد جرم عائد کی گئی ہے ڈٹ کر مقابلہ کروں گا،ہائی کورٹ میں پٹیشن دائرکریں گے اور ثابت کریں گے کہ کون منشیات فروشی کرتا ہے

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments