30 جنوری کو پی ایس پی ملک میں خاموش انقلاب کی بنیاد ڈالے گی،مصطفی کمال

احتجاجی مارچ سے ہم یا تو سندھ کے حقوق کے کر اٹھیں گے یا پھر موت کو گلے لگائیں گے، ظلم پر خاموشی ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے

ہفتہ 22 جنوری 2022 23:15

30 جنوری کو پی ایس پی ملک میں خاموش انقلاب کی بنیاد ڈالے گی،مصطفی کمال
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 22 جنوری2022ء) پاک سر زمین پارٹی کے چیئر مین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ 30 جنوری کو پی ایس پی ملک میں خاموش انقلاب کی بنیاد ڈالے گی۔ پاک سر زمین پارٹی 30 جنوری کے احتجاجی مارچ سے ہم یا تو سندھ کے حقوق کے کر اٹھیں گے یا پھر موت کو گلے لگائیں گے۔ ظلم پر خاموشی ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ ظلم پر خاموشی اختیار کرنے والوں کا پیپلز پارٹی زندہ رہنا مشکل کردے گی۔

پیپلز پارٹی کے ظلم کیخلاف عوام کو اب گھروں سے نکلنا ہوگا، خاموشی آپشن نہیں رہا۔ کراچی سے کشمور تک سندھ پیپلز پارٹی کی جمہوری دہشتگردی کا شکار ہے، ہمارا ماننا ہے کہ خاموش رہنے والے دنیا اور آخرت میں بھی تکلیف اٹھانا پڑیں گی، روز محشر خاموش رہنے والے کوئی جواز پیش نہیں کرسکیں گے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیپلزپارٹی کے سیاہ بلدیاتی ترمیمی قانون کے خلاف 30 جنوری 2022 بروز اتوار وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کے سلسلے بلدیہ ٹاؤن کے ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پی ایس پی پاکستان کی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو پاکستان کے تمام مسائل کا قابل عمل حل پیش کررہی ہے۔ کراچی سے کشمیر تک عوام کے پاس اب پی ایس پی ہے علاؤہ کوئی دوسرا آپشن نہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ 13 سال سے سندھ میں حکومت کر رہی ہے، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو این ایف سی کی مد میں 10242 ارب روپے ملے، سندھ انسانوں کے رہنے کے لائق بدترین جگہوں میں شامل ہے۔

سندھ میں بچے کتے کے کاٹنے، ایڈز، غذائی قلت سے مر رہے ہیں، 70 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ کارکنان گھر گھر پہنچیں اور رائے عامہ کو ہموار کریں۔انہوں نے کہا کہ کارکنان گھر گھر جائیں اور مسئلے کے حل کیلئے لوگوں کو ہمارا ساتھ دینے پر آمادہ کریں۔ یہ ہر کراچی والے کی نسلوں کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ عوام اپنے حقوق کے لیے صرف ایک دن کے لئے اپنے گھروں سے باہر نکلیں اور ظالم کو واضح پیغام دیں۔#

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments