ایم کیوایم کا بلدیاتی قانون کیخلاف احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج اور شیلنگ

کارکنان کو ریڈزون میں جانے سے روکنے پرپولیس اور مظاہرین میں تصادم، مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کا لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ، بچوں خواتین سمیت متعدد کارکنان زخمی، بغیروارننگ اور مذاکرات طاقت کا استعمال کیا گیا، وفاقی وزیر امین الحق

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 26 جنوری 2022 19:12

ایم کیوایم کا بلدیاتی قانون کیخلاف احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج اور شیلنگ
کراچی (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جنوری 2022ء) ایم کیوایم کارکنان نے بلدیاتی قانون کیخلاف وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج اور دھرنا دیا، تو پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے زبردست لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی، شیلنگ میں متعدد کارکنان سمیت بچے اور خواتین بھی زخمی ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیوایم پاکستان نے بلدیاتی قانون کیخلاف کراچی میں احتجاجی ریلی نکالی، ریلی کے شرکاء نے وزیراعلیٰ ہاوس جانے کی کوشش کی تو انتظامیہ نے سی ایم ہاؤس جانے والا راستہ بند کردیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔

شرکا کو وزیراعلیٰ ہاوس کی جانب بڑھنے سے روکنے پر ایم کیوایم کارکنوں نے سندھ حکومت کےخلاف نعرے بازی کی۔

(جاری ہے)

تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب ایم کیوایم کارکن اور پولیس اہلکار آمنے سامنے آگئے، جس پر پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے زبردست لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی، شیلنگ میں متعدد کارکنان سمیت بچے اور خواتین بھی زخمی ہوگئے۔

ایم کیوایم کے وفاقی وزیر امین الحق کا کہنا ہے کہ بغیر وارننگ ریلی پر زبردست لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی، جس میں بچے اور خواتین بھی زخمی ہوئی ہیں، ایم پی اے صداقت عباسی شدید زخمی ہوئے اور ان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ امین الحق نے کہا کہ ریلی پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا، ہم مذاکرات کرنا چاہتے تھے، ہم سیاسی لوگ ہیں اور بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، مغرب کی جماعت کھڑی کرنے کا اعلان کیا ، جس کے بعد لاٹھی چارج ہوا اور گرفتاریاں شروع کردی گئیں۔

مرکزی رہنماء ایم کیوایم خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ حکومت نے ریلی پر بدترین تشدد کیا، آج سے سندھ حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا، سندھ حکومت کو تشدد کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔وزیراطلاعات ونشریات سندھ سعید غنی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کسی بھی سیاسی جماعت کے احتجاج کے خلاف نہیں ہے، جماعت اسلامی ایک مہینے سے احتجاج کررہی ہے، پی ایس ایل شروع ہونے والا ہے، پی ایس ایل کے کئی کھلاڑی وزیراعلیٰ کے اطراف ہوٹلوں میں مقیم ہیں،ایم کیوایم کی ریلی نے میٹروپول سے پریس کلب جانا تھا لیکن اچانک سی ایم ہاؤس کی طرف چل پڑی، صورتحال ایسی بن گئی کہ انتظامیہ کو ایکشن لینا پڑا۔خبردار کیا تھا کہ سکیورٹی ایشوز کے باعث وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف مت جائیں۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments