اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںملکی خارجہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ سانجھے کی ہنڈیا چوراہے میں ٹوٹ رہی ..

ملکی خارجہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ سانجھے کی ہنڈیا چوراہے میں ٹوٹ رہی ہے۔حلیم عادل شیخ ،

وزیر اعظم خود وزیر خارجہ ہیں اور کچھ خارجہ پالیسی سرتاج عزیزچلاتے ہیں جبکہ اس کا کچھ حصہ طارق فاطمی کے پاس ہے۔، , علاوہ ازیں ترکی،چین،اور قطر سے تعلقات کو پنجاب کے چیف منسٹر کے ہاتھوں ٹھیکے پر دیا ہواہے۔، , وزیراعظم صاحب تجربہ کار اور پروفیشنل لوگوں سے پرہیز کرتے ہیں اسی لیے یہ وزارت بھی منظور نظر کو ہی ملے گی۔

کراچی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار 23 فروری 2015ء )مسلم لیگ سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ پاکستانی خارجہ پالیسی کا المیہ یہ ہے کہ اسے بہت سے لوگ چلارہے ہیں جسکی وجہ سے وہ آگے بڑھنے سے قاصر ہیں،اس وقت وزیر اعظم خود وزیر خارجہ ہیں اور کچھ خارجہ پالیسی سرتاج عزیزچلاتے ہیں جبکہ اس کا کچھ حصہ طارق فاطمی کے پاس ہے ،علاوہ ازیں پاکستان ،ترکی،چین،اور قطر سے تعلقات کو پنجاب کے چیف منسٹر کو ٹھیکے پر دیا ہواہے ۔

کبھی کبھار ہمارے صوبائی وزراء امریکا پر اپنی طبعہ آزائی کرتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں ،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ "سانجھے کی ہنڈیا چوراہے میں ٹوٹ رہی ہے "۔ضرورت اس بات کی ہے کہ خارجہ امور کو ایک منتخب وزیر کے سپرد کیاجائے تاکہ وہ اطمینان کے ساتھ اپنا کام کرسکے اور پھراگر کوئی مسئلہ ہوتا ہے تواسی کو ذمہ دار ٹھرایا جائے ۔

(خبر جاری ہے)

لہذا اس دھان منتی کے کنبے کو اسی انداز میں کنٹرول کیا جاسکتا ہے اس کے لیے پارلیمنٹ کے منتخب ممبر کو جسے بین الاقوامی امور پر تجربہ حاصل ہو اسے اس عہدے پر فائز کیا جائے ۔

جبکہ وزیراعظم صاحب تجربہ کار اور پروفیشنل لوگوں سے پرہیز کرتے ہیں اس لیے یہ ہی ڈر لگا رہتاہے کہ یہ اہم وزارت وہ باقی وزارتوں کی طرح کسی منظورنظر کے سپرد نہ کردیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ سندھ کے صوبائی سیکرٹریٹ میں صوبائی جنرل سیکرٹری غلام سرورسیال ، سینئر نائب صدر سندھ اختر پرویز،سیکرٹری ایڈمنسٹریشن نعیم عادل شیخ ،یوتھ ونگ کے صوبائی صدر آغا رفیع اللہ اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات میں کیا ۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ حکومت کے ایک اہم وزیر کا یہ بیان قابل غور ہے جس میں موصوف کاکہنا ہے کہ سینٹ الیکشن کے بعد وزارت خارجہ سرتاج عزیز ہی چلائیگے مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وزیر اعظم صاحب اس وقت وزیر خارجہ کو چلارہے ہیں ان کا کیا بنے گا؟،ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت کے دوسال گزرگئے ان کے پاس کوئی ڈھنگ کا وزیر خارجہ ہی نہیں ہے جبکہ تقریروں میں یہ لوگ دوسری جماعتوں کے سیاستدانوں کو نالائق اور اپنی ٹیم کو دنیا کی بہترین ٹیم کہتے ہوئے شر ماتے تک نہیں تھے ۔

انہوں نے کہا ملک میں اس وقت انتہا پسندی سے لیکر تمام شعبوں میں حکومتی کارکردگی بلکل اس طر ح ہے جسے بغیر کسی حکومت کے ملک ایک طویل عرصہ سے چل رہا ہو ،ہمارے وزیر اعظم یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ ملک میں جار ی دہشت گردی میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے مگر یہ نہیں بتاپاتے وہ ممالک کون کون سے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی مدت پوری کرنے کے چکر میں کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے ان کی بلا سے ملک میں کوئی جئے یاپھر مر ے ۔


اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں