اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںروئی کے بھائو میں مندی,کاروباری حجم کم , جنزز کے پاس اسٹاک محدود ٹیکسٹائل ..

روئی کے بھائو میں مندی,کاروباری حجم کم , جنزز کے پاس اسٹاک محدود

ٹیکسٹائل سیکٹر کی زبوں حالی کے باعث کاروبار سست روی کا شکار،بھائورت،چین اور امریکا میں روئی کے بھائو میں اضافہ کے بعد سرد بازاری

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2017ء)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روئی کے بھائو میں مجموعی طور پر مندی کا رجحان رہا،کاروباری حجم بالکل کم رہا۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے ا سپاٹ ریٹ فی من 6700 روپے کے بھائو پر مستحکم رکھا، سندھ و پنجاب میں روئی کا بھائو فی من 6500 تا 7000 رہا،کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ ملک میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی زبوں حالی کے باعث کاروبار سست روی کا شکار رہا،کاروبار محدود رہ گیا ہے گو کہ جنرز کے پاس صرف سوا دو لاکھ گانٹھوں کا قلیل اسٹاک رہ گیا، کام کم ہونے کے سبب ا سٹاک رکھنے والے جنرز میں تشویش پائی جاتی ہے ۔

شدید گرمی کے باعث کپاس پر سوکھ لگ رہی ہے وزن کم ہوتا جا رہا ہے ، اکا دکا خریدار نظر آتا ہے ۔

(خبر جاری ہے)

بین الاقوامی کپاس منڈیوں بھارت،چین اور امریکا میں روئی کے بھائو میں اضافہ کے بعد سرد بازاری ہوگئی ہے ۔بھارت میں روئی کی کوالٹی گرنے سے خریداری کم ہوگئی ہے جبکہ امریکامیں USDA کی ہفتہ وار رپورٹ میں برآمد کا گراف 46 فیصد کم ہونے کی وجہ سے مندی کا رجحان رہا۔

مقامی ٹیکسٹائل سیکٹر کے ذرائع کے مطابق کاٹن یارن اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ اور بھائوئو میں کمی اور سرکار کی جانب سے اربوں روپے کے ریفنڈ کی عدم ادائیگی کے باعث زبر دست مالی بحران پیدا ہوگیا ہے ، دوسری جانب برآمدی پیکیج کے اعلان کو 100 روز کا عرصہ گزر گیا لیکن اس کا اجرا تاحال نہیں ہو سکا جسکے متعلق وزیراعظم نے برہمی کا اظہار کیا ہے تاہم نئی فصل کی بوائی تیزی سے جاری ہے ۔دریں اثنا حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل سیکٹر کی مراعات دینے کے بجائے رعایتی پیکیج میں کاٹن پر زیرو ریٹڈ کی سہولت دی گئی تھی وہ واپس لینے کا عندیہ دیا جا رہا ہے . جس سے ٹیکسٹائل سیکٹر کو ایک اور دھچکا لگے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں