اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںپاک سرزمین پارٹی کے اراکینِ قومی اسمبلی کی پی آئی اے کی نجکاری کی شدید ..

پاک سرزمین پارٹی کے اراکینِ قومی اسمبلی کی پی آئی اے کی نجکاری کی شدید مخالفت

, پی آئی اے مسلم لیگ(ن) کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ پاکستان کے قومی پرچم کا علمبردار اور عوامی امنگوں کا ترجمان ہے، پی ایس پی

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جنوری2018ء) پاک سر زمین پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی آصف حسنین اور سلمان مجاہد بلوچ نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے مسلم لیگ(ن) کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ پاکستان کے قومی پرچم کا علمبردار اور عوامی امنگوں کا ترجمان ہے۔ دانیال عزیز کو معلوم نہیں کہ وہ پی آئی اے کی نجکاری کیوں کر رہے ہیں جیسے ان کے پارٹی سربراہ کو اب تک نہیں معلوم کہ انہیں کیوں نکالا گیا۔

پی آئی اے کی نجکاری ملک و قوم کے مفادات اور امنگوں کے خلاف ہے۔ اراکین قومی اسمبلی پاک سر زمین پارٹی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ایک ایک کر کے تمام قومی اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور بھاری کمیشن کے حصول کے لیے ان کی نجکاری عمل میں لائی جا رہی ہے۔

(خبر جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے آخری چند ہفتوں میں اس قسم کے اقدامات سے گریز کرے جس سے کرپشن اور ملک کے خلاف سازش کا گمان ہوتا ہے اور اس نوعیت کے فیصلوں کو آئندہ منتخب ہونے والی جمہوری حکومت کے لیے چھوڑ دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی خود پی آئی اے کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ ان کی حکومت میں عوام کو پی آئی اے میں اصلاحات کی توقع تھی جو نہیں کی گئیں۔ پی آئی اے کی نجکاری وزیراعظم اور موجودہ حکومت کی کارکردگی اور انتظامی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک سر زمین پارٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ پی آئی اے جیسے قومی اثاثے کی نجکاری کے عمل سے پہلے معاملے کو قومی اسمبلی میں زیر بحث لایا جائے اور اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت ادارے کے ملازمین کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں