امت مسلمہ کی تقسیم یہود و نصاری کا اولین ہدف ہے،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

مستقبل میں ملکی سیاست میں اہم تبدیلیاں رونما ہوں گی،الیکشن 2018 میں بھرپور حصہ لیں گے، مجلس وحدت مسلمین پاکستان

پیر جنوری 22:44

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جنوری2018ء) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے امت مسلمہ کے مختلف مکاتب فکر کو مزید گروہ بندی کاشکار کرنے کے لیے اسلام دشمن طاقتیں بڑی تیزی سے اپنے مذموم ہتھکنڈوں میں مصروف ہیں۔اس وقت یہود و نصاری کا واحد ہدف اسلام کی حقیقی شناخت کو گمراہ کن انداز میں پیش کر کے امت مسلمہ کو شکوک و شبہات میں مبتلا کرنا ہے ۔

جو قوم اپنے عقیدے کے اعتبار سے شکوک کا شکار ہو جاتی ہے اس کا ایمان کمزور پڑ جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحد ت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے مسجد مدینتہ العلم میں منعقدہ سیمینار بعنوان’’ عصر مہدویت ؑ کے تقاضے‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے صوبائی رہنما علامہ مقصودڈومکی، علی حسین نقوی، علامہ صادق جعفری سمیت سیاسی وسماجی شخصیات اور کارکنان کی بڑی تعداد شریک تھی انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کے ایمان کو کمزور کرنے کے لیے مختلف محاذوں پر پوری قوت سے کام جاری ہے۔

(جاری ہے)

غیر ملکی ثقافتی یلغار اور ایسے تربیت یافتہ مبلغین جو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے دور کرنے کے لیے مختلف جواز فراہم کر رہے ہیں استعماری طاقتوں کے کاری ہتھیارہیں۔ایسی نام نہاد مذہبی شخصیات جو عقیدت کی آڑ میں عقیدے کو نشانہ بنا نے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں کی حوصلہ شکنی دور عصر کا اہم تقاضہ اور ہمارا اولین فریضہ ہے۔انہوں نے کہا کہ تعجیل امام زمانہ علیہ السلام کے لیے زمینہ سازی انفرادی کردار سازی سے مشروط ہے۔

اس کے لیے ہر ایک کو اپنا اپنا کردارا ادا کرنے کی ضرورت ہے۔آل سعود نے عالمی ذرائع ابلاغ میں واضح طور پر کہا ہے کہ ہم امام مہدی علیہ السلام کی فوج سے جنگ کریں گے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف آل سعود کے فکری ،نظریاتی اور دیگر اعتبار سے مکمل حمایتی ہیں۔پاکستان میں ملت تشیع کو اسی وجہ سے مشکلات کا شکار بنایا جایا رہا ہے۔مستقبل قریب میں پاکستان کی سیاست میں غیر معمولی تبدیلیاں منظر عام پر آئیں گی۔

نواز شریف اینڈ کمپنی نے اس ملک کو نہ صرف عدم استحکام کا شکار کیا بلکہ فرقہ واریت کے فروغ میں بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ہم اس ملک میں اتحاد و اخوت کے خواہاں ہیں۔ہماری طرف سے ہر اس طاقت کی کھل کر مخالفت کی جائے گی جوملکی و قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہو۔انہوں نے کہا کہ 2018کے انتخابات ملک کی سیاست کا رخ بدل دیں گے۔ملت تشیع کو سیاسی اعتبار سے اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لیے سیاست میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔

متعلقہ عنوان :

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments