اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںشرح خواندگی میں اضافہ بڑھتی آبادی پر قابو پائے بغیر ممکن نہیں ہے، ڈاکٹرعذراپیچوہو پاکستان ..

شرح خواندگی میں اضافہ بڑھتی آبادی پر قابو پائے بغیر ممکن نہیں ہے، ڈاکٹرعذراپیچوہو

پاکستان کو کسی ایٹم بم شاید اتنا خطرہ نہ ہو جتنا خطرہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ایٹم بم سے ہوگا، سنیئرصحافی جی این مغل اور دیگرکا ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے پیداہونیوالے مسائل سے متعلق میڈیا ڈائیلاگ سے خطاب

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 جنوری2018ء)پاکستان پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عذراپیچوہونے کہا ہے کہ شرح خواندگی میں اضافہ بڑھتی آبادی پر قابو پائے بغیر ممکن نہیں ہے،آبادی کے تناسب کو این ایف سی ایوارڈ کا پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے پیداہونیوالے مسائل سے متعلق کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں میڈیاڈائیلاگ کاانعقادکیاگیا۔

اس میڈیاڈائیلاگ میں سی آئی پی سیکرٹریٹ،پی ڈبلیو ڈی اور ہیلتھ پالیسی پلس کا اشتراک رہا،تقریب میں ایم این اے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی سربراہی میں فیملی پلاننگ اور آگاہی پروگرامز کو سندھ بھر میں پھیلانے پر زور دیا گیا۔ٹیکنیکل ایڈوائیزرسی آئی پی سیکرٹریٹ ڈاکٹر طالب لاشاری نے کہاکہ سندھ میں 22 فیصد خواتین بچے کی پیدائش پر وقفہ کو اہمیت دیتی ہیں لیکن ان کے پاس احتیاطی تدابیر موجود نہیں ہیں۔

(خبر جاری ہے)

نجی ٹی وی سے تعلق رکھنے والے غلام مورل نے کہاکہ صرف تعلیم اور آگاہی کے ذریعے ہی آبادی کے مسئلے کو روکا جاسکتا ہے جبکہ سیاسی طور پر بھی بہتر طریقے سے مسئلے کی روک تھام ممکن ہے۔سینئرصحافی جبار خٹک نے کہاکہ ان مسائل کو مقامی طور پر یعنی گلی،محلوں اور کمیونٹی کی سطح پر لیجانے کی ضرورت ہے۔سینئرصحافی جی این مغل نے کہا کہ پاکستان کو کسی ایٹم بم شاید اتنا خطرہ نہ ہو جتنا خطرہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ایٹم بم سے ہوگا اگر حکومتی سطح پر اس مسئلے سے متعلق رائے عامہ قائم نہ کی گئی توصورت حال خطرناک حد تک اختیار کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ڈراموں اور کمرشل کی صورت میں بھی آگاہی فراہم کی جانی چاہیے۔سینئر صحافی توفین ٹی ابراہیم نے نشاندہی کی کہ آگاہی مہم عام فہم ہونا ضروری ہے جبکہ ٹاک شوز میں کبھی کبھار ان موضوعات پر بات کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا بلکہ عوامی سطح پر ان مسائل کا سدباب کرنا چاہیے۔سینئرصحافی شہربانو نے اس حوالے سے سہہ ماہی رپورٹ بھی پیش کی۔

سینئرصحافی عامر ضیاء نے کہاکہ مین اسٹریم میڈیا میں ایسی خبروں کو اہمیت اور جگہ نہیں دی جاتی۔انگریزی اخبارات میں پھر بھی خبریں شائع ہوتی ہیں اس کے مقابلے میں اردو اخبارات میں اتنی اہمیت نہیں دی جاتی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو صحافیوں کے بجائے میڈیا ہائوسز کے مالکان کے ساتھ مل کر اس مسئلے پر کام کرنا چاہیے۔عامر ضیاء نے کہا کہ ایسے مسائل میں زبان بھی ایک رکاوٹ رہی ہے۔

پی ڈبلیو ڈی کے سیکرٹری لئیق احمد نے میڈیا کو حکومت کے ساتھ ایسے مسائل پر مل کر کام کرنے کو خوش آئند قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ آبادی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ملکی استحکام کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔نوجوان شادی شدہ افراد میں فیملی پالاننگ سے متعلق آگاہی فراہم کرنے اور اس سے متعلق میڈیا کو اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں