اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںسندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے ایک سیمینار کا انعقا د 2015 ء میں ..

سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے ایک سیمینار کا انعقا د

2015 ء میں جو سندھ مینٹل ایکٹ بنایا گیا تھا اس کے خدوخال کو اجاگر کرنے کے لئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا ہے , یہ ایکٹ خصوصا دماغی امراض میں مبتلا افراد کی فلاح و بہبود کے لئے بنایا گیا ،اس قانون کو بنانے میں جو مختلف اسٹیک ہولڈرز شامل رہے ہیں، سینیٹر کریم خواجہ

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 فروری2018ء) سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے ایک سیمینار کا انعقا د مقامی ہوٹل میںکیا گیا تاکہ عوام کو شعور اور آگاہی حاصل ہو سکے ۔2015 ء میں جو سندھ مینٹل ایکٹ بنایا گیا تھا اس کے خدوخال کو اجاگر کرنے کے لئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا۔اس سیمینار کی صدارت سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کے چیئر مین سینیٹر کریم خواجہ نے کی۔

اس سیمینار میں مشہور ماہر نفسیات ہارون احمد سمیت دیگر ماہر نفسیات اور ابلاغ عامہ کی شخصیات نے شرکت کی ۔اس موقع پر ڈاکٹر کریم خواجہ نے کہا کہ یہ ایکٹ خصوصا دماغی امراض میں مبتلا افراد کی فلاح و بہبود کے لئے بنایا گیا ہے ۔اس موجودہ قانون کو بنانے میں جو مختلف اسٹیک ہولڈرز شامل رہیں ہیں ، آج کی تقریب میں خصوصی طور پر ان کی خدمات کوسرہاتے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

آج کی تقریب کا مقصد اس قانون کو اجاگر کرنا ہے۔اب ہم منصوبہ بنا رہیں ہیں کہ مستقبل میں اس طرح کے پروگرامزکرتے رہیں گیں، جن میں ججز، وکلا ء، ابلاغ عامہ کے افرا داور صارفین تک رسائی کے لیے ایسی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔حالیہ سینیٹ کے اجلاس میں ڈی کرمنالائیز سوئیسائیڈ کا بل متفقہ طور پر سینٹ نے پاس کیا ہے۔اس بل پر اسلامی نظریاتی کاؤنسل نے بھی نظر ثانی کی ہے ۔اس موقع پر ڈاکٹر خواجہ اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں