کراچی،عدالت عظمیٰ کے احکامات کے مطابق کچرا اٹھانے اور شہر کی صفائی ستھرائی کا کام بلدیاتی اداروں کے سپرد کیا جائے، وسیم اختر

کراچی میںکچرے کی وجہ سے انسانی صحت کے ساتھ ساتھ آبی حیات کو بھی شدید خطرات لاحق ہے،میئر کراچی

اتوار فروری 21:10

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 فروری2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے احکامات کے مطابق کچرا اٹھانے اور شہر کی صفائی ستھرائی کا کام بلدیاتی اداروں کے سپرد کیا جائے، کراچی میںکچرے کی وجہ سے انسانی صحت کے ساتھ ساتھ آبی حیات کو بھی شدید خطرات لاحق ہے، گندا پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے سمندر میں ڈالا جا رہا ہے، شہریوں کو صاف پانی اور کچرے سے پاک ماحول دیا جائے، کراچی میں روزانہ بارہ ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے، لوگوں میں آگاہی پیدا کررہے ہیں کہ کچرا، کچرا کنڈی میں ہی ڈالا جائے سڑکوں کے اطراف نہ پھینکا جائے،ہمارے پاس وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں، یہ بات پاکستان وویمن فائونڈیشن فار پیس کے زیر اہتمام سی ویو پر ’’گرین سٹی واک ‘‘ میں شرکت کرنے کے موقع پر شرکاء اور میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، واک میں سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین، ممبر قومی اسمبلی کشور زہرہ ، ڈاکٹر نسیم صلاح الدین ، نرگس رحمان، ڈاکٹر نیئر جبیں، قدوسیہ قادری، سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن مسعود عالم اور مختلف سماجی تنظیموں کے علاوہ اسکولز اور کالجز کے طلبا و طالبات نے شرکت کی، میئر کراچی نے کہا کہ کچرا اٹھانے کا معاملہ حکومت سندھ نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے،گزشتہ ایڈمنسٹریٹرز کے دور میں شہر پر کوئی توجہ نہیں دی گئی،کچرے سے بہت سی بیماریاں پھیل رہی ہیں ہم بغیر کسی سیاست کے شہر کا کچرا صاف کرنا چاہتے ہیں،میئر کراچی نے کہا کہ کچرا اٹھانا، سڑکوں کی مرمت اور صفائی ستھرائی ہماری ترجیح رہے گی، مقامی حکومتوں کے اختیارات سلب کئے گئے ہیں تاہم ہم سب مل کر کام کریں گے اور ان مسائل کو حل کرلیں گے، انہوں نے کہا کہ این جی اوز، اسکولز،کالجز اور مخیر حضرات سمیت کراچی کے رہائشی اس مہم میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ ہم شہر کو کچرے سے پاک کرسکیں، انہوں نے کہا کہ کراچی کو صاف ستھرا رکھنے کی مہم میں طلبا و طالبات کی شرکت احسن اقدام ہے، شہر کو صاف ستھرا رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،کراچی پورے ملک کو کھربوں روپے کما کر دیتا ہے، کراچی کے عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ ان کا حق انہیں دیا جائے، کراچی کو صاف کیا جائے اور کراچی کے ساتھ انصاف کیا جائے، انہوں نے کہا کہ دستیاب وسائل میں شہر کی بہتری کے لئے جو کچھ ممکن ہوا کررہے ہیں، واک میں طلباء و طالبات اور سماجی تنظیموں کی شرکت سے شہریوں میں آگاہی اور شعور پیدا ہوگا، ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم نہ صرف اپنے گھروں اور اسکولوں کو بلکہ اردگرد کے ماحول کو بھی صاف ستھرا رکھیں گے،عدم توجہی کے باعث شہر کو کچرے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ شہر میں صفائی ستھرائی اور کچرا کے ڈھیر کو صاف کرنے سے منتخب نمائندوں پر شہریوں کا اعتماد بحال ہوسکے گا، واک میں شریک اسکول کے طلباء و طالبات اور شہریوں کو آگاہی فراہم کی گئی کہ وہ خود بھی اپنے علاقوں کو صاف رکھیں گے اور دیگر لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دیں گے،انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ماحولیات پر تیزی سے کام ہورہا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کو ماحولیاتی آلودگی اور کچرے کے حوالے سے ابھی بہت کام کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو بااختیار اور مضبوط بنایا جائے تاکہ اختیارات نچلی سطح تک پہنچ سکیں تاکہ شہریوں کو مسائل ان کے دروازے پر حل ہوں تاہم بدقسمتی سے ہمارے ہاں منتخب بلدیاتی نمائندوں کے پاس اختیارات نہیں جس کے باعث مسائل کا سامنا ہے، واک سے ڈاکٹر نسیم صلاح الدین اور نرگس رحمان نے بھی خطاب کیا ، شرکاء نے بڑے بڑے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کراچی کی صفائی ستھرائی اور کچرا اٹھانے سے متعلق نعرے درج تھے۔

#

متعلقہ عنوان :

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments