اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںمیثاق جمہوریت کے نام پر ملک میں نورا کشتی کھیلی گئی اور پیسہ باہر لے ..

میثاق جمہوریت کے نام پر ملک میں نورا کشتی کھیلی گئی اور پیسہ باہر لے جایا گیا،عمران خان

ہمارا مقابلہ جمہوری لوگوں سے نہیں بلکہ مافیاز سے ہے، اڈیالہ جیل میں مزید کمرے بنائے جارہے ہیں کیوں کہ وہاں مزید لوگ آرہے ہیں، نواز شریف کو گاڈ فادر کہنے پر سپریم کورٹ کو داد دیتا ہوں،پی ٹی آئی چیئرمین کا کراچی میں جلسے سے خطاب

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جولائی2018ء)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میثاقِ جمہوریت کو کرپشن چارٹر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میثاق جمہوریت کے نام پر ملک میں نورا کشتی کھیلی گئی اور پیسہ باہر لے جایا گیا،ہمارا مقابلہ جمہوری لوگوں سے نہیں بلکہ مافیاز سے ہے، اڈیالہ جیل میں مزید کمرے بنائے جارہے ہیں کیوں کہ وہاں مزید لوگ آرہے ہیں، نواز شریف کو گاڈ فادر کہنے پر سپریم کورٹ کو داد دیتا ہوں۔

اتوار کوکراچی میں جلسے سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل سے پیغام جارہا ہے کہ بڑی چوری کروگے تو سہولیات ملیں گی، چھوٹی چوری کروگے تو مارے جا گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی پولیس عزیربلوچ کو تحفظ دیتی تھی، شوگر ملوں پر قبضے کرائے جاتے تھے۔عمران خان نے کہا کہ بلاول ہاوس کے اطراف گھر زبردستی خالی کرائے گئے، ہمارا مقابلہ سیاست دانوں سے نہیں مافیا سے ہے۔

(خبر جاری ہے)

انہوں نے اعتراف کیا کہ کراچی کے حوالے سے جوکام کرنے چائیے تھے نہیں کرسکے۔عمران خان نے کہا کہ جو افراد 20-22 سال قبل ساتھ تھے، ان کی فیملیز پر پریشر بہت تھا ، جتنا خوف کراچی میں تھا اتنا خوف پورے سندھ میں بھی تھا۔ان کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے چارٹر آف ڈیموکریسی کرپشن کرنے کے لیے کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے دیگر علاقوں میں زرداری مافیا جبکہ پنجاب میں شریف خاندان کا قبضہ تھا ، کوئی بھی بااثر افراد آنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ عابد باکسر نے اعتراف کیا کہ شہباز شریف کے کہنے پر ماورائے عدالت قتل کیے۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ یہ منی لانڈرنگ کرتے تھے، ملک کا پیسہ باہر لے کر جاتے تھے، انہوں نے پیسہ باہر لے جا کر ملک کو مقروض کیا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سندھ میں زرداری مافیا کا راج جبکہ پنجاب میں شریف خاندان کا قبضہ تھا، انہی لوگوں نے پیسہ باہر لے جا کر ملک کو مقروض کیا۔

دس سال کے بعد پاکستان کا حال دیکھ لیں، پہلے قرضہ 6 ہزار اور اب 28 ہزار ارب تک پہنچ گیا ہے، جو پیسہ اکھٹا ہوتا ہے وہ چوری اور کرپشن کی نظر ہو جاتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ نائن الیون میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن ایک حکمران نے کسی اور کی جنگ میں شرکت کا فیصلہ کیا، کسی اور ملک کی جنگ کی وجہ سے پاکستان میں تباہی آئی، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے 70 ہزار جانوں کی قربانی دی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ آج بھی کسی اور کی جنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اکرام گنڈا پور ہمارے وزیر تھے، انہیں ایک خود کش حملے میں شہید کیا گیا، آج سے پانچ سال پہلے ان کے بھائی کو بھی خود کش حملے میں شہید کیا گیا تھا۔عمران خان نے اعلان کیا کہ موقع ملا تو آزادنہ خارجہ پالیسی بناں گا، ہم کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، اللہ تعالی نے موقع دیا تو پاکستان کسی اور ملک کیلئے استعمال نہیں ہو گا۔عمران خان نے کراچی اور اندرونِ سندھ کی عوام سے پارٹی کو زیادہ فعال نہ کرنے پر معافی مانگی اور کہا کہ شہرِ قائد کے لوگ ملک میں سب سے زیادہ باشعور ہیں، یہیں سے ملک کی سیاسی تحریکوں کا آغاز ہوتا تھا، اب یہاں پارٹی کو زیادہ مضبوط کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں