مبارک ویلیج: جہاز سے تیل کا رسا، تحقیقات ایف آئی اے سے کروانے کا فیصلہ

سیٹلائٹ اور دیگر ذرائع سے تیل سمندر میں پھینکنے والوں کا پتہ لگا لیا ہے، کس جہاز نے تیل پھینکا اس کا بھی تعین کر لیا گیا ہے، علی زیدی

جمعرات اپریل 15:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اپریل2019ء) وفاقی وزیر میری ٹائم آفیئرزعلی زیدی نے مبارک ویلیج میں تیل کے رسائو کے معاملے پر تحقیقات وفاقی تحقیقاتی اداری(ایف آئی ای)سے کروانے کافیصلہ کیاہے۔اس حوالے سے تشخیصی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاز سے نکلنے والے تیل اور سمندر سے ملنے والے تیل میں یکسانیت نہیں۔علی زیدی کے مطابق ذمہ داران کا پتہ چلا لیا ہے تاہم وقت سے پہلے نہیں بتانا چاہتا۔

انہوں نے کہاکہ سیٹلائٹ اور دیگر ذرائع سے تیل سمندر میں پھینکنے والوں کا پتہ لگا لیا ہے، کس جہاز نے تیل پھینکا اس کا بھی تعین کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاز چلا کر مبارک ویلیج کے قریب پہنچانے والا شپ کیپٹن نہیں تھا، معاملے کی مزید تحقیقات بھی ہوں گی۔وفاقی وزیر میری ٹائم آفیئرز نے ڈی جی اور سیکرٹری میری ٹائمز کو تحقیقات ایف آئی اے سے کرانے کا حکم دے دیاہے۔

(جاری ہے)

اکتوبر 2018 میں مبارک ویلیج کے مقام پر آلودہ تیل پھیلنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔علی زیدی نے ڈی جی میری ٹائم کو سیکیورٹی جہاز کے مالک سے تحقیقات کی ہدایت کی تھی، انہوں نے ایجنٹ اور کیپٹن کے خلاف تحقیقات کی بھی ہدایت کی تھی۔واقعے کے باعث اس مقام کی خوبصورتی بری طرح متاثر ہوئی اور ماحول کو شدید نقصان پہنچا۔ساحل پر تیل کے باعث شدید آلودگی سے مچھلیوں سمیت دیگر آبی حیات مرنے لگی تھیں۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماحولیات عبدالرحیم کے مطابق مبارک ولیج کے ساحل پر آنے والا تیل خام تیل ہے، بلوچستان کے ساحلوں پر یہ تیل اکثر آجاتا ہے، خلیجی ممالک کے آئل کنٹینرز شمالی بحیرہ عرب سے گزرتے ہوئے خام تیل پھینک دیتے ہیں۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سمندر کو مانیٹر نہیں کیا جاتا، ہر ماہ 1200 کے قریب آئل کنٹینرز بحیرہ عرب سے گزرتے ہیں، کمزور ماحولیاتی قوانین کے باعث انٹرنیشنل آئل کنٹینرز تیل سمندر میں چھوڑ رہے ہیں اور تیز ہوائیں سمندر میں چھوڑا گیا تیل ساحل پر لے آتی ہیں۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments