آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیئے کم ازکم تنخواہ میں پانچ ہزار روپے کا اضافہ کیا جائے،زبیر طفیل

منگل اپریل 21:05

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 اپریل2019ء) وفاقی ایوانہائے تجارت و صنعت پاکستان کے سابق صدر زبیر طفیل نے کہا ہے ملک کی معیشت کی حالت اس وقت بہتر نہیں ہے،ملک مسائل سے گھرا ہوا ہے ،افراط زر بڑھ رہا ہے، عام آدمی کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہورہا ہے،غربت ،مہنگائی اور بے روزگاری سے لوگ تنگ آچکے ہیں اس لئے حکومت کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں مزدورں کی کم از کم تنخواہ 17 سے بڑھاکر 2 2 ہزار روپے کی جائے تاکہ غریب عوام کو کچھ ریلیف مل سکے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال مزید کچھ عرصہ اور جاری رہی تو غربت،مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ آئے لوگ پرتشدد ہنگامہ آرائی پر بھی اتر آسکتے ہیں۔یہ بات انہوں نے گزشتہ شام محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی(ماجو) کے فنانس اینڈ اکنامکس کے شعبہ کے زیر اہتمام پری بجٹ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

سیمینار سے سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے لائف ممبر انجینئر ایم اے جبار،سینئر صحافی اشرف خان، ماجو کی بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ سوشل سائینسز کے ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر شجاعت مبارک اورسیمینار کے آرگنائیزر ڈاکٹررضوان الحق نے بھی خطاب کیا جبکہ ممتاز ٹی وی اینکر اور ماجو کے استاد علی ناصر نے سیمینار کی میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔

آئیندہ مالی سال کے لئے اپنی بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے زبیر طفیل نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ اس وقت ڈھائی لاکھ سے زائید افراد بے روزگاری کا شکار ہیں اس لئے نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ملک میں نئی انڈسٹری لگانے کی حوصلہ افزائی کی جائے، اس ضمن میں سرمایہ کاروں کو رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے بجائے انڈسٹری لگانے کی ترغیب دی جائے، شرح سود کم کی جائے،پاکستانی کرنسی کی قیمت کم کرنے سے افراط زر کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافہ پر توجہ دی جائے، صنعتی پیداوار میں اضافہ کے لئے انڈسٹری کے لئے بجلی کے نرخ کم کئے جائیں،سیلز ٹیکس کی شرح کم کی جائے،سی پیک کے منصوبے سے فوائید حاصل کرنے کے لئے ملک میں ہنر مند افرادی قوت میں اضافہ کے اقدامات کئے جائیں ، جی ایس ٹی کا ریٹ کم کیا جائے اور اس میں سالانہ ایک فیصد کمی کی جائے ۔

انجینئر ایم اے جبار نے کہا کہ ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کا دائیرہ وسیع کیا جائے،کالا دہن سفید کرنے والوں کو آگے چل کر تنگ نہ کیا جائے،تجارتی خسارہ کو کم کیا جائے اور بزنس و اکنامک ایڈوائیزری کونسلوں کی تجاویز سے فائیدہ اٹھایا جائے۔سینئر صحافی اشرف خان نے کہا کہ پاکستان کی 70فی صد معیشت بلیک اکنامی کی حامل ہے اس کو سفید کرکے ملکی معیشت کو بہتر بنایا جائے،ٹیکس ریفارمز کی جائیں۔

اور شرح سود کم کرکے سرمایہ کاری کی شرح میں اضافہ کیا جائے۔ڈاکٹر شجاعت مبارک نے کہا کہ مانیٹری پالسی کو سخت کرکے افراط زر کنٹرول کیا جائے تاکہ ملکی معیشت ترقی کرے،آئی ایم ایف نے انڈسٹری میں بجلی کے استعمال کو بہتر بنانے کو کہا ہے اس پر توجہ دی جائے،دنیا بھر میں اب پٹرول کے بجائے الیکٹرک سے چلنے والی کار کے استعمال پر توجہ دی جارہی ہے اس لئے ہم کو بھی اپنے فیول کے امپورٹ بل کو کم کرنے کے لئے اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے اور عالمی کساد بازاری کے بڑھتے ہوئے رحجان سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں زبیر طفیل نے کہا کہ کرنسی کی قیمت گرانے سے ہمیں اب تک کوئی فائیدہ نہیں ہوا ہے اس کے نتیجہ میں ہماری برآمدات میں صرف دوفیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ہماری درآمدات دوبلین ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہیں۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments