جمعیت علماء پاکستان نیازی کے متعدد عہدیداروں نے پارٹی سے استعفے دیدیئے

منگل اپریل 22:09

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 اپریل2019ء) جمعیت علماء پاکستان نیازی کے درجن سے زائد عہدیداروں نے خود ساختہ مرکزی قیادت کی ناقص کارکردگی ، آئین کی خلاف ورزیوں، بانی جماعت مولانا عبدالستار خان نیازی کے نظریاتی سے انحرافی اختیارات کے ناجائیز استعمال منشورکے خلاف اقدامات سے پارٹی کو نقصان پہنچانے ، انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے، بد عنوانی کی شکایات اور جماعت کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہ کرانے پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیئے ہیں استعفیٰ دینے والوں میں مرکزی نائب صدر نیاز علی راجپورت ، مرکزی جوائنٹ سیکریٹری ریاض علی ، مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعت جنید احمد ، سندھ کے صدر علامہ کرم اللہ لاکھو، مشیر قانون احمد مہران ایڈوکیٹ ، ملتان ڈویژن کے صدر قاری معین شاہ ، بھاولپور کے صدر مولانا عبدالکریم مری ، سکھر کے صدر مولانا عبدالمجید قادری ، رحیم یار خان کے صدر مولانامفتی عبدالفتح سہروردی ، فیصل آباد کے صدر مفتی عبدالقدیر چشتی ، بھاولنگر کے صدر مولوی خان محمد لغاری حیدرآباد کے صدر مفتی زاہد علی اور دیگر عہدیدار شامل ہیں مستعفی ہونے والے عہدیداروں نے اپنے استعفے جماعت کے سرپرست اعلیٰ پیر معین الدین کوریجہ کو ارسال کردیئے ہیں مستعفی ہونے والے رہنمائوں نے کہا ہے کہ احمد مہران گورایا ایڈوکیٹ کی زیر نگرانی قانونی کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو جمعیت علماء پاکستان نیازی پر گزشتہ 20سالوں سے قابض خود ساختہ قائدین ناقص کارکردگی کے خلاف ، جماعت کے حساب کتاب کا آڈٹ نہ کرانے ، اثاثوں کی تفصیل اور گوشوارے جمع نہ کرانے، جماعت کو رجسٹرڈ نہ کرانے اور انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان اور معزز عدالت عظمیٰ سے رجوع کریں گے ان رہنمائوں نے کہا کہ آئندہ چند روز میں مزید عہدیدارو کارکنان استعفیٰ دیں گے اور ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلائیں گے ان رہنمائوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے نظریاتی کارکنان کی حیثیت سے 2مئی کو بانی جماعت حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی ؒ کا یوم وصال نہایت عقیدت و احترام سے منائیں گے منعقدہ تقریبات میں خود ساختہ قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کریں گے انہوں نے کہا کہ فوری طورپر ہم ریاض علی کی قیادت میں ایکشن کمیٹی قائم کررہے ہیں اگر خود ساختہ قائدین کا احستاب نہ ہوا اور وہ اپنی غیر آئینی حرکتوں سے اور جماعت کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے باز نہ آئے تو پھر جماعت میں الگ گروپ قائم کیا جائے گا جو ملک بھرمیں احتجاج کرکے جماعت کے تحفظ کے لئے تحریک چلائے گا۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments