ضلع وسطی میں صفائی ستھرائی کے ساتھ برساتی نالوں کی صفائی کا کام جاری ہے ۔ریحان ہاشمی

منگل مئی 23:18

کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 مئی2019ء) چیئرمین بلدیہ وسطی ریحان ہاشمی نے کہا ہے کہ برساتی نالوں کی مکمل صفائی کو ممکن بنانے کی کوشش جاری ہے۔منگل کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں یونین کمیٹی23، نارتھ ناظم آباد بلاک ایل تا بلاک ایم کے درمیان سے گزرنے والے برساتی نالے کی صفائی کے کام کا معائنہ کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر یونین کمیٹی 22 کے وائس چیئرمین مستفیض فاروقی، یونین کمیٹی 36 کے وائس چیئرمین شمشاد زیدی، چیئرمین سینی ٹیشن کمیٹی زین الحق، موٹروہیکل انسپکٹر ندیم حیدر، ڈپٹی ڈائریکٹر سینی ٹیشن نارتھ ناظم آباد زون غوث محی الدین ودیگر بلدیاتی افسران بھی موجود تھے۔ ریحان ہاشمی نے کہا کہ ضلع وسطی میں برساتی نالوں کی صفائی سے سیوریج سسٹم کے پانی کی نکاسی میں بہتری آئے گی۔

(جاری ہے)

اس وقت تمام برساتی نالے سیوریج نالے بن چکے ہیں کیونکہ لوگوں نے اپنی سیوریج لائنوں کو برساتی نالوں میں ڈال دیا ہے جبکہ برساتی نالے پہلے ہی کوڑے کرکٹ کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیوریج لائنوں کا پانی برساتی نالوںمیں گرنے کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں تاہم اگر یہ ہی برساتی نالے بہتر اور مکمل طور پر صاف کردئے جائیں تو سیوریج کے پانی کی نکاسی میں معاون ثابت ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھہ ماہ قبل ہی واٹر کمیشن کی ہدایت پر بلدیہ وسطی میں 80% فیصد برساتی نالوں کی صفائی کی جاچکی ہے مگر عوام کی جانب سے برساتی نالوں میں کچرا پھینکنے کے عمل کو روکا نہیں جا سکا جس کی وجہ سے برساتی نالے کچرا کنڈی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں چیئرمین کے پاس مجسٹریٹ کے اختیارات تھے جبکہ اب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک برساتی نالوں میں کچرا پھیکنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں نہ لائی جائیگی، نالوں کی صفائی کا عمل بے سود ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسئلہ جو شہر کے ہر چھوٹے بڑے سیلابی نالوںکو درپیش ہے وہ یہ کہ عوام اور کچرا مافیہ کوڑا کرکٹ مختص کردہ کچرا کنڈیوں میں ڈالنے کے بجائے نالوںمیں پھینک دیتے ہیں۔ اور بارش کے موسم میں سارے نالے اُبل پڑتے ہیں اور ان کا پانی نالوں کے قریب آباد بستیوں میںداخل ہو جاتا ہے۔ جو عوامی مشکلات کے ساتھ ساتھ بلدیہ وسطی کی اضافی ذمہ داری کا سبب بنتا ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments