جیکب آباد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزاور ماتلی تعلقہ اسپتال کو پرائیوٹ پارٹنرشپ کے طور پر چلائے جانے کا فیصلہ

ہفتہ جولائی 23:19

کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 جولائی2019ء) وزیراعلی سندھ سید مراعلی شاہ کی زیرصدارت منعقدہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ (پی پی پی ) کی29 ویں پالیسی بورڈ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حال ہی میں نئے تعمیر ہونے والے اسپتالوں، جیکب آباد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (جے آئی ایم ایس) اور ماتلی تعلقہ اسپتال کو پرائیوٹ پارٹنرشپ کے طور پر چلایا جائے گا تاکہ ہسپتال24 گھنٹے بہتر خدمات فراہم کر سکے۔

ہفتہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق پی پی پی بورڈ کے دیگر اراکین جنہوں نے شرکت کی ان میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، وزیر بلدیات سعید غنی، وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار شاہ، چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ، چیئرپرسن پی اینڈ ڈی ناہید شاہ، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودھی، صوبائی سیکریٹریز قاضی شاہد پرویز، نجم شاہ، سعید عوان، احسن منگی، اسلم انصاری، پی پی پی یونٹ کے ایم ڈی خالد شاہ، ، ایم ڈی واٹر بورڈ عبداللہ خان اور دیگر نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اجلاس کو بتایا گیا کہ جے آئی ایم ایس امریکا کے تعاون سے تعمیر کیا گیا اور اس کا رقبہ 5 ایکڑ ہے اور اس پر 14.5 بلین ڈالرز لاگت آئی ہے۔ یہ 133 بستروں پر مشتمل ہے اور اس کے مجموعی عملے کی تعداد 141 ہے جس میں صرف 14 سرکاری ملازمین ہیں، اس وقت اس کے کچھ محکمے فعال ہیں ۔2018 ء کے دوران اس کے 492566 او پی ڈی کے کیسز ہوئے۔ زچگی کے 4130 کیسز اور خاندانی منصوبہ بندی کے 2061 کیسز ریکارڈ کئے گئے۔

جیکب آباد میں قائم یہ اسپتال سندھ اور بلوچستان کے عوام کیلئے بڑی سہولت ہے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ یہ صحت کی سہولت ہے اور ہمیں اسے ایک تعمیری صحت کی سہولت کے طور پر آپریٹ کرنا چاہئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جیکب آباد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (جے آئی ایم ایس) کی آئوٹ سورس کیا جائے گا۔ پی پی پی پالیسی بورڈ نے فیصلہ کیا کہ یہ اسپتال آئوٹ سورس کر کے بہتر انداز میں چلایا جائے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جے آئی ایم ایس کو آئوٹ سورس کرنے کیلئے نجی شعبے سے دلچسپی لینے والوں کو دعوت دینے والی تجویز کی منظور دی، اس وقت تک صحت کی سہولیات کو مجموعی طور پر بہتر بنایا جائے گا۔ اجلاس میں 30 بستروں پر مشتمل ماتلی تعلقہ اسپتال جوکہ 1975 ء میں قائم ہوا اور اسے 1978 ء میں اپ گریڈ کیا گیا یہ 800 تا 1000 مریضوں کو او پی ڈی کی خدمات فراہم کر رہا ہے اور اس کی 20 تا 25 بستر روزانہ کی بنیاد پر استعمال ہوتے ہیں۔

اسپتال میں ٹی بی اور ڈینٹل کلینک اور خاندانی منصوبہ بندی کا یونٹ سمیت ایک تمام سامان سے آراستہ لیبر روم بھی ہے جہاں پر اوسطاً 100 تا 125 زچگی کے کیسز ماہوار ہوتے ہیں۔ اسپتال میں ایک ایکسرے شعبہ، الٹرا سائونڈ مشین اور ایمبولینس سروس بھی ہے۔ محکمہ صحت نے پی پی پی یونٹ کے ذریعے بورڈ سے تعلقہ اسپتال کو آئوٹ سورس کرنے کی درخواست کی تاکہ اس کی انتظامیہ اور اسٹاف کی دیگر ضروریات اور رہائشی کالونی اور دیگر ضروریات سے نبرآزمہ ہو سکے، بورڈ نے درخواست کی منظوری دیدی۔

وزیراعلی سندھ نے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ وہ اسپتال کی میڈیکل اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی ضروریات کو پورا کرے۔ اجلاس میں بریفنگ کے دوراں بتایا گیا کہ ملیر ایکسپریس وے پروجیکٹ کیلئے ملیر ندی بند سے ریتی اٹھانے کی اجازت مانگی گئی ہے، اگر ریتی ملیر ندی سے اٹھائی جائے تو پروجیکٹ کی لاگت میں کمی ہوگی۔ واضح رہے کہ ملیر ندی سے ریتی اٹھانے پر سپریم کورٹ نے واٹر بورڈ کی درخواست پر پابندی لگائی ہے۔

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ماحولیاتی مطالعہ کرکے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ریتی اٹھانے سے ماحول کو کوئی نقصان نہیں تو سپریم کورٹ کو درخواست کی جائے کے وہ ریتی اٹھانے کی اس پروجیکٹ کیلئے اجازت دے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر عدالت اجازت نہیں دیتی تو منصوبے کی لاگت کو بڑھایا جائے گا۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments