سندھ میں رواں برس کانگو سے 18، نگلیریا سے 13، ڈینگی سے 8 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، ڈاکٹر عمران شاہ

جمعہ ستمبر 18:59

کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 ستمبر2019ء) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما رکن سندھ اسمبلی اور ماہر صحت ڈاکٹر عمران شاہ نے صوبے میں پھیلتی بیماریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں رواں برس کانگو سے 18، نگلیریا سے 13، ڈینگی سے 8 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ صوبے میں ملیریا کے کیسز کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے، وہیں دوسری جانب مون سون کی بارشوں کے بعد سے ڈِینگی کیسز میں کراچی میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، محکمہ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس صرف کراچی میں ڈینگی کے 2138 جبکہ سندھ کے دیگر اضلاع میں94 کیس درج کئے گئے ہیں۔

ڈاکٹر عمران شاہ نے جمعہ کو جاری کردہ اپنے بیان میں مزید کہا کہ صوبہ سندھ خصوصاً کراچی اب مہلک بیماریوں کا گڑھ بن گیا ہے۔

(جاری ہے)

محکمہ صحت کی ازلی نااہلی سے پہلے لاڑکانہ کو ایڈز ہوا اور اب کراچی بیماریوں کی فہرست میں صف اول ہے۔ صوبے میں تیزی سے پھیلتی بیماریاں حکومت سندھ اور محکمہ صحت کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ حکومت سندھ ہوش کے ناخن لیں اورحکومت صوبے بھر خصوصاً کراچی میں صحت کی ایمرجنسی کا نفاز کرے اور شہریوں میں بیماریوں سے بچاو کے لئے آگاہی مہم شروع کرے۔

ماہر صحت ڈاکٹر عمران شاہ نے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت ان بیماریوں سے نمٹنے کے لئے ہنگامی پروگرام ترتیب دیئے۔شہر میں ڈینگی اورملیریا سے بچاو کے لئے مچھر مار اسپرے مہم شروع کی جائے۔ نگلیریا تاحال لاعلاج مرض ہے، حکومت سندھ واٹر بورڈ کو پابند کرے کے پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار شامل ہو،جبکہ کانگو سے بچاو کے لئے محکمہ لائیو اسٹاک سندھ کو پابند کرے کہ جانوروں میں چیچڑ مار اسپریکیا جائے اور محکمہ کو پابند کیا جائے کہ جانوروں کے مکمل چیک اپ کے بعد انہیں فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments