میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سیدسیف الرحمن کا کراچی چڑیاگھر کا تفصیلی دورہ

مچھلی گھر کے تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا، تمام کاموں میں معیار کو فوقیت دینے کی ہدایت کراچی چڑیا گھر صرف ایک چڑیا گھر ہی نہیں بلکہ درختوں کا یہ ایک بہت بڑا باغ ہے جہاں مختلف اقسام کے ہزاروں پودے اور انتہائی قدیم درخت بھی موجود ہیں، کراچی چڑیا گھر صرف جانوروں کے لئے ہی مخصوص نہیں بلکہ یہ ایک نباتیاتی گارڈن بھی ہے جہاں تعمیر ہونے والا مچھلی گھر ایک نیا اضافہ ہوگا جبکہ یہ پاکستان کا بھی پہلا بحری حیات سے متعلق ایکوریم ہوگا،سید سیف الرحمن

جمعہ ستمبر 20:36

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 ستمبر2019ء) کراچی چڑیا گھر میں بنائے جانے والے نئے مچھلی گھر ( ایکوریم) کا تعمیراتی کام رواں مالی سال میں مکمل کرلیا جائے گا، 2150 اسکوائر فٹ رقبہ پر بنایا جانے والا یہ مچھلی گھر بحری حیات سے متعلق ہے ، پاکستان کے کسی بھی چڑیاگھرمیں بحری حیات سے متعلق اتنا بڑا مچھلی گھر موجود نہیں ہے، مچھلی گھر میں مجموعی طورپر8 فٹ لمبے اور 6 فٹ چوڑے 8 شیشے کے باکس (Glass Tank) بنائے گئے ہیں، سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP)کے تحت بنائے جانے والے اس ایکوریم کو تین فیز میں مکمل کیا جارہا ہے، پہلے فیز میں عمارت کی تعمیرمکمل کرلی گئی ہے، دوسرے فیز میں گلاس ٹینک اور دیگر کام کئے جا رہے ہیں جبکہ تیسرے فیز میں بجلی سے متعلق کاموں، مشینوں کی تنصیب، واٹر پمپس اور اسی طرح کے دیگر امور مکمل کئے جائیں گے، میئر کراچی وسیم اختر اور میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن کے دورے کے بعد ایکوریم کے تعمیراتی کاموں میں تیزی، توقع ہے کہ آئندہ مالی سال میں نیا مچھلی گھر عوام کے لئے کھول دیا جائے گا، تفصیلات کے مطابق میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سیدسیف الرحمن نے جمعہ کی صبح کراچی چڑیاگھر کا تفصیلی دورہ کیا اور مچھلی گھر کے تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا، انہوں نے ہونے والے تمام کاموں میں معیار کو فوقیت دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی چڑیا گھر صرف ایک چڑیا گھر ہی نہیں بلکہ درختوں کا یہ ایک بہت بڑا باغ ہے جہاں مختلف اقسام کے ہزاروں پودے اور انتہائی قدیم درخت بھی موجود ہیں، کراچی چڑیا گھر صرف جانوروں کے لئے ہی مخصوص نہیں بلکہ یہ ایک نباتیاتی گارڈن بھی ہے جہاں تعمیر ہونے والا مچھلی گھر ایک نیا اضافہ ہوگا جبکہ یہ پاکستان کا بھی پہلا بحری حیات سے متعلق ایکوریم ہوگا جسے ہم کراچی اوشیئن یا میٹروپولیٹن اوشیئن ایکوریم کے نام سے تفویض کریں گے جس میں خاص اقسام کی سمندری بڑی مچھلیاں رکھی جائیں گے تاکہ لوگ سمندر حیات کو قریب سے دیکھ سکیں، انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں اوشیئن ڈزنی موجود ہیں جہاں لوگ آکر ناصرف محظوظ ہوتے ہیں بلکہ بہت کچھ سیکھتے بھی ہیں، کراچی چڑیاگھر میں پہلے سے موجود قدیم مچھلی گھر جو 1953 میں قائم کیا گیا تھا اس میں میٹھے پانی کی مچھلیاں موجود ہیں جبکہ اس قدیم مچھلی گھر کو نئے بنائے جانے والے مچھلی گھر سے ملا دیا جائے گا تاکہ یہاں آنے والے شائقین دونوں ایکوریم سے لطف اندوز ہوسکیں، انہوں نے کہا کہ یہ مچھلی گھر کراچی زولوجیکل اینڈ بوٹنی گارڈن میں ایک بڑا اضافہ ہے جہاں گلاس ٹینک پر مچھلیوں کے نام اور ان سے متعلق دیگر معلومات بھی درج ہوں گی تاکہ آبی حیات میں دلچسپی رکھنے والے شائقین کو ناصرف یہ کہ تفریح حاصل ہو بلکہ وہ یہاں سے کچھ سیکھ بھی سکیں اور یہ جان سکیں کہ یہاں موجود مچھلیاں کیا کھاتی ہیں، ان کی زندگی کتنی ہوتی ہے، یہ کتنی اقسام ہیں، ان کا سائنسی نام کیا ہے، یہ کس فیملی سے تعلق رکھتی ہیں یا ان کی افزائش نسل کیسے ہوتی ہے اور اسی طرح کی دیگر معلومات بھی درج ہوں گی، انہوں نے کہا کہ نئے مچھلی گھر کی تعمیر کا کام 2014ء میں شروع کیا گیا تھا مگر بعدازاں تعمیراتی کام تعطل کا شکار رہا، میئر کراچی نے خود بھی کراچی چڑیا گھر کے کئی دورے کئے اور نئے بنانے جانے والے مچھلی گھر کے تعمیراتی کاموں کو تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت کی، اپریل کے بعد ان کاموں میں تیزی آئی اور اب یہ تکمیل کی جانب گامزن ہے، توقع ہے کہ رواں سال تمام کاموں کو مکمل کرکے آئندہ مالی سال میں اسے عوام کے لئے کھول دیا جائے گا،یہ نیا مچھلی گھر ناصرف کراچی کے شہریوں بلکہ ملک بھر سے آنے والوں کے لئے ایک دلچسپ اور عمدہ تفریح ثابت ہوگا کیونکہ کراچی میں اس نوعیت کا مچھلی گھر پہلے کلفٹن میں موجود تھا مگر وہ بہت عرصے سے غیر فعال اور بند ہے۔

#

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments