عمران خان نے کراچی آکر 162 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیامگراب بھی منتظر ہے ،

کراچی پر ایک روپیہ کا خرچ نہیں کیا گیا،مرتضی وہاب وفاق کی جانب سے این ایف سی میں سندھ کے حصے کی رقم موصول نہ ہونے کے باعث 160ارب روپے کا شارٹ فال ہے جس کے باعث ترقیاتی منصوبے متاثر ہورہے ہیں،ترجمان حکومت سندھ

ہفتہ ستمبر 23:51

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 ستمبر2019ء) وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ عمران خان نے کراچی آکر 162 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیامگر کراچی اب بھی منتظر ہے کیونکہ کراچی پر ایک روپیہ کا خرچ نہیں کیا گیا،وفاق کی جانب سے سندھ کے حصے کے پورے پیسے نہیں دیئے جارہے، وفاق کی جانب سے این ایف سی میں سندھ کے حصے کی رقم موصول نہ ہونے کے باعث 160ارب روپے کا شارٹ فال ہے جس کے باعث ترقیاتی منصوبے متاثر ہورہے ہیں، گزشتہ سال 95ارب کا شارٹ فال تھا جبکہ اس سال جولائی اور اگست کے دوماہ میں 60ارب روپے کا شارٹ فال ہے،کراچی ہم سب کا ہے، کراچی چلے گا تو ملک چلے گا، وفاقی حکومت کام نہیں کرتی اور نہ ہی ہر کیلئے پیسہ نہیں دیتی ہے،میں چیلنج کرتا ہوں وفاقی حکومت نے ایک پیسوں کا کام نہیں کیا،نہ ہی بجٹ بک میں کراچی پیکیج کی رقم کا کوئی ذکر موجود ہے،جو ساڑھے 12 ارب رکھے گئے ہیں اسمیں سے 8ارب روپے میاں نوازشریف حکومت کے پیکیج کے ہیں، گورنر صاحب نے ایک چینل پر آکر کہا کہ 42 ارب ہیں جس میں کراچی کے ساڑھے 12 ارب روپے اپنے بجٹ میں رکھے گئے ہیں یہ چیلنج سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ غلط کہہ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتے کو کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ انڈسٹری (کاٹی)میں ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر کاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر، صدر دانش خان،سینیٹر عبدالحسیب خان، سی ای او کائٹ زبیرچھایا، گلزارفیروز، جنیدنقی، فراز الرحمان، سلیم الزماں،زاہدسعید،ڈی سی کورنگی شہریار میمن اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

بیرسٹرمرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اب تو ایماندار فرشتے حکومت میں ہیں تو پھر پیسے کیوں نہیں لگ رہے،آج تک گرین لائن کا کام مکمل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 16ستمبر 2018کو خان صاحب کراچی آتے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ 10منٹ وزیراعظم نے ٹائم دیا ، یہ انکی سندھ سے دلچسپی ہے،سوال ہم سے ہوتا ہے تو وفاق سے بھی ہوناچاہیئے۔مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اوروزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اب مجھے کراچی صاف چاہئیے، 30دن کے اندر کراچی سے کچرے کے ڈھیر صاف کردیے جائیں گے، ٹریٹمنٹ پلانٹس سے متعلق صنعت کاروں کے تحفظات دور کرنے کیلئے سیکریٹری ماحولیات ، ڈی جی سیپا اور کاٹی کے نمائندگان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی، گرین لائن بس منصوبہ وفاق کی جانب سے وعدے کے مطابق رقم نہ ملنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔

مرتضی وہاب نے کہا کہ حال ہی میں سیاسی بنیادوں پر چلائی گئی صفائی مہم ناقص منصوبہ بندی کے باعث ناکام ہوئی، وزیر اعلیٰ سندھ نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو جامع منصوبہ بندی کے ساتھ صاف کراچی مہم کے لیے احکامات جاری کیے اور اس کے لیے مطلوبہ فنڈ بھی جاری کردیے گئے ہیں۔مرتضی وہاب نے اپنے خطاب میں ماحولیات کے قوانین اور ٹریٹمنٹ پلانٹس سے متعلق صنعت کاروں کے تحفظات دور کرنے کے لیے سیکریٹری ماحولیات، ڈی چی سیپا اور کاٹی کے نمائندگان پر مشتمل ایک اسٹیئرنگ کمیٹی بنانے کی ہدایت جاری کی۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے شجر کاری کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر لیاری اور ملیر ندی میں اربن فارسٹنگ کے منصوبے زیر غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرین لائن بس منصوبے کی تکمیل کے لیے 10ارب روپے درکار ہیں اور وفاق نے ترقیاتی منصوبوں میں اس کے لیے صرف ڈھائی ارب روپے جاری کیے ہیں جس کی وجہ سے یہ منصوبہ مسلسل تاخیر کا شکار ہورہا ہے۔

انہون نے کہا کہ ہم سے کہا جاتا ہے کراچی کو اوون کریں میں یہ کہتا ہوں کہ کراچی والوں کو بھی ہمیں اوون کرنا چاہیے، حکومت جتنی بھی اچھی ہو جائے کردار عوام کو بھی ادا کرنا ہوگا ،کراچی میں پہلے جو حالات تھے وہ اب نہیں بلکہ امن وامان بہت بہتر ہے،ہم نے جیسے کراچی کے کلاشنکوف کلچر کو ختم کیا کچرے کو بھی صاف کریں گے۔ قبل ازیں سرپرست اعلیٰ کاٹی ایس ایم منیر کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ کراچی میں صفائی ستھرائی کا نظام بہتر نہ کیا گیا تو وبائی امراض پھوٹ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا وزیر اعلیٰ سندھ نے صنعتی علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لیے فنڈز جاری کرنے کا قابل تحسین اقدام کیا۔ایس ایم منیر نے کہا کہ گرین پاکستان پروگرام کے تحت پورے ملک میں 10کروڑ درخت لگانے کا عزم ہے، حکومت سندھ بھی اس سلسلے میں تعاون کرے۔ صدر کاٹی دانش خان نے کہا کہ کراچی کو انفرااسٹرکچرکی خستہ حالی اور ماحولیاتی آلودگی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاٹی نے پولی تھین کے غیر معیاری بیگز کے خاتمے کیلئے کورنگی صنعتی علاقے میں اس کی پیدوار ختم کرنے کا ماحول دوست اقدام کیا ہے اور اس کے تحت کاغذ اور کپڑے سے تیار تھیلے بھی تقسیم کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کورنگی صنعتی علاقے میں ایک سال کے دوران ایک لاکھ درخت لگائے گئے ہیں اور ملکی سطح پر شجر کاری کے مہم میں کاٹی بھرپور حصہ لے رہی ہے۔

سینیٹر عبد الحسیب خان نے کہا کہ کراچی واٹر بورڈ ایک ایسا پھوڑا بن چکا ہے جس کا علاج آپریشن کے بغیرممکن نہیں، شہر میں فراہمی و نکاسی آب میں بہتری کیلئے بڑے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ زبیر چھایا نے کہا کہ کراچی میں کچرے کو سیاست کی نذر کردیا گیا اس کے لیے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو فعال بنایا جائے۔ انہوں نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی ناقص کارکردگی پر شدید تشویش کا اظہار بھی کیا۔

کاٹی کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیات سلیم الزماں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کراچی میں صنعتوں کے آبی فضلے کی ٹریٹمنٹ کے لیے پلانٹس کی منظوری دی گئی، وفاق اور صوبے نے اس کے لیے فنڈ بھی جاری کردیے ہیں تاہم اب صنعتوں کو اپنے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ گلزار فیروز نے محکمہ ماحولیات کی مشاورتی کونسل کو فعال کرنے کا مطالبہ کیا۔

زاہد سعید نے کہا کہ ملیر اور لیاری ندی کے ریور بیڈ پر اربن فورسٹنگ کے منصوبے کے تفصیلی تجاویز دینے کے لیے تیار ہیں صوبائی حکومت ان پر عمل کرے تو کراچی خوب صورت ترین شہر بن جائے گا۔ ایف پی سی سی آئی اور کاٹی میں شجرکاری کی خصوصی کمیٹی کے سربراہ جنید نقی نے کورنگی صنعتی علاقے میں شجر کاری سے متعلق حاضرین کو بریفنگ دی، اس موقع پر ڈی سی کورنگی نے بھی صاف کراچی مہم سے متعلق ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments