اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لوگوں پر حیات تنگ کر دی گئی ہے بغیر کسی وقفے کے 46ویں روز بھی کرفیو بدستور جاری رہے،اسپیکرآزادقانون سازاسمبلی

لوگوں کے گھروں پر راشن ،ادویات سمیت تمام اشیا ختم ہوچکی ہیں اسکول ، کالجز اور یونیورسٹیز بند ہیں سیب کی فصل دوختوں پر سڑ کر معیشت کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں، غلام قادرشاہ

ہفتہ ستمبر 23:53

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 ستمبر2019ء) آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر غلام قادر شاہ نے کہا ہے کہ 5اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لوگوں پر حیات تنگ کر دی گئی ہے بغیر کسی وقفے کے 46ویں روز بھی کرفیو بدستور جاری رہے،لوگوں کے گھروں پر راشن ،ادویات سمیت تمام اشیا ختم ہوچکی ہیں اسکول ، کالجز اور یونیورسٹیز بند ہیں سیب کی فصل دوختوں پر سڑ کر معیشت کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں ہزاروں کشمیری جیلوں میں پابند و سلاسل ہیں جس سے آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے خون ابل رہے ہیں وہ جان کی پرواہ کیئے بغیر کسی بھی وقت سیز فائر لائن توڑ سکتے ہیں لہذا عالمی قوتیں فوری طور پر مداخلت کریں ورنہ پورا ایشیائی خطہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا یہ بات انہوں نے ہفتے کے روز کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر مسلم لیگ ن آزاد جموں کشمیر کی صوبائی اور ڈویژنل قیادت بھی موجود تھی قبل ازیں اسپیکر آزاد جموں کشمیر نے گورنر سندھ اور اراکین سندھ اسمبلی سے بھی ملاقات کی جنہوں نے مقبوضہ کشمیر کے نہتے کشمیریوں سے مکمل اظہار یکجہتی کیا اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی غلام قادر شاہ نے حکومت پاکستان اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کے حل پر کی جانے والی جدوجہد کو سراہا انہوں نے کہا کہ اس وقت جس طرح وزیراعظم پاکستان عمران خان مسئلہ کشمیر کو عالمی فورم پر اٹھا رہے ہیں تو وہ دن دور نہیں کشمیر میں جلد ہی آزادی کا سورج طلوع ہوگا پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت اقوام متحدہ اور او آئی سی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے جو جدوجہد کر رہی ہے اسلامی ممالک کو بھی ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر کوشش کرنی ہوگی ورنہ پوری دنیا ایٹمی جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ آزاد کشمیر کے نوجوان مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کے سبب بے قابو ہو چکے ہیں اور ہم نے انہیں کنٹرول کر رکھا ہے مگر ہمارا یہ کنٹرول زیادے عرصے نہیں چل سکے گا لہذا فوری طور پر عالمی دنیا اپنا کردار ادا کرے

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments